انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 507

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۰۷ سیر روحانی (۴) تو ایمان کسی تھیلی کا نام نہیں تھا جو ثریا سے لٹکی ہوئی ہو یا ثریا کوئی بنک کی والٹ (VAULT) نہیں تھا جس میں ایمان کو محفوظ رکھا جانا تھا۔بہر حال یہ ایک تمثیلی کلام تھا اور اس لفظ کا استعمال استعارہ کے رنگ میں ہوا تھا پس ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اگر خواب میں کوئی ثریا دیکھے تو اس کی کیا تعبیر ہو ا کرتی ہے۔اس غرض کیلئے جب ہم تعطیر الا نام کو دیکھتے ہیں جو الشيخ عبد الغني النابلسی رحمتہ اللہ علیہ کی تصنیف ہے اور علم تعبیر الرؤیا کی نہایت معتبر اسلامی کتاب ہے تو اس میں ہمیں یہ لکھا ہو انظر آتا ہے کہ هِی فِی الْمَنَامِ رَجُلٌ حَازِمٌ فِي الْأُمُورِ کا یعنی ریا سے مراد ایسا آدمی ہوتا ہے جو اپنے تمام کام نہایت خوش اسلوبی اور کامیابی کے ساتھ سرانجام دینے والا ہو۔اسی طرح ابن سیرین جو مشہور تابعی گزرے ہیں اپنی کتاب ” منتخب الکلام فی تفسیر الاحلام “ میں لکھتے ہیں کہ هُوَ رَجُلٌ حَازِمُ الرَّأْي يَرَى الْأُمُورَ فِي الْمُسْتَقْبِلِ ^ یعنی ثریا سے مراد ایسا انسان ہوتا ہے جو نہایت پختہ اور صحیح رائے رکھنے والا ہو، اور آئندہ زمانہ میں رونما ہونے والے واقعات کو بھی اپنی روحانی بصیرت سے دیکھ لیتا ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی ان معنوں کے لحاظ سے ثریا سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم افاضہ کے نتیجہ میں مسیح موعود کا ظہور ہیں جنہوں نے اُن تمام فرائض کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے سپر د کئے گئے تھے انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دیا اور ہمیشہ کا میابیوں اور کامرانیوں نے آپ کے قدم چومے۔لیکن چونکہ آپ نے ہمیشہ زندہ نہیں رہنا تھا اور زمانہ نبوت سے بعد کی وجہ سے لوگوں نے کئی قسم کی خرابیوں میں مبتلاء ہو جانا تھا جن کو دُور کرنے کے لئے کسی آسمانی راہنما کی ضرورت تھی اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشگوئی فرمائی کہ اگر کسی وقت ایمان سمٹ کر ثریا تک بھی چلا گیا یعنی دنیا میں گمراہی پھیل گئی اور ایمان صرف آپ کی ذات تک محدود رہ گیا تو اُس وقت پھر اللہ تعالیٰ آپ کے روحانی افاضہ کے نتیجہ میں ایک ایسا انسان مبعوث فرمائے گا جو آپ سے فیض اور برکت پا کر ایمان دنیا میں قائم کر دے گا اور کفر کی تاریکیوں کو پھاڑ دے گا یہی وجہ ہے کہ مسیح موعود کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل شاگرد ہونے کی وجہ سے ثریا قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس نے بھی ظلمت کو