انوارالعلوم (جلد 19) — Page 495
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۹۵ سیر روحانی (۴) کلام چار طریق پر سُنا جاتا ہے ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان چار طرح کلام سن سکتا ہے۔اول اس کے افکار پراگندہ ہو جائیں۔دوم اس کا دل پراگندہ ہو کر شیطان سے اُس کا تعلق قائم ہو جائے۔سوم اس کی ہوا وحرص تیز ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں اُس کے دل کے خیالات غالب آجائیں۔چهارم کلام الہی نازل ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہہ رہا ہے یہ نہ تو ضلالت کا نتیجہ ہے نہ غوائت کا نتیجہ ہے اور نہ ہو ا و ہوس کا نتیجہ ہے بلکہ اس وحی کا نتیجہ ہے جو اس پر نازل ہو گئی ہے اور جسے وہ بنی نوع انسان کے سامنے پیش کر رہا ہے۔نجم سے کیا مراد ہے یہ نجم کیا ہے جسے خدا تعالیٰ اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضلالت میں مبتلا نہیں ہوئے ، افکار کی غلطی میں مبتلا نہیں ہوئے ، کسی فلسفیانہ غلطی میں مبتلا نہیں ہوئے وَمَاغَولی اور نہ کسی شیطان کے قبضہ میں آئے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوى اور نہ ہوا و ہوس اور لالچ کی وجہ سے ان کے اندرا ایسے خیالات پیدا ہوئے کہ وہ ایسی تعلیم پیش کرتے جو دنیا کے لئے گمراہی کا موجب ہوتی۔ان دعوؤں کا ثبوت کیا ہے؟ فرماتا ہے ہمارے ان دعوؤں کا ثبوت ایک ستارہ ہے جو اوپر سے نیچے گرا، یہ اوپر سے نیچے گرنے والا ستارہ کیا ہے؟ اور ستارہ بھی ایسا جو تین زاویوں سے نیچے جھکا اور اس نے تین خیالات کا قلع قمع کیا۔دنیا میں بعض فلسفی لوگ تھے جو یہ خیال کرتے تھے کہ فلسفیانہ باتیں پڑھ پڑھ کر اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے، بعض لوگ یہ فقرہ پست کر کے تسلی پالیتے تھے کہ کیسا بُرا آدمی ہے شیطان نے اس پر قبضہ کر لیا ہے اور اب یہ شیطانی با تیں لوگوں کو سناتا چلا جاتا ہے، کچھ اور لوگ تھے جو یہ کہ کر مطمئن ہو جاتے تھے کہ اس کے نفس میں ہوا و ہوس پیدا ہوگئی اور اس نے چاہا کہ میں بھی بڑا آدمی بن جاؤں اس لئے یہ ایسی باتیں کہہ رہا ہے۔ان تین خیالات کا ایک ہی رڈ ان آیات میں کیا گیا ہے فرماتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ضلالت پر نہ ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ ایک ستارہ اوپر سے نیچے آیا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم