انوارالعلوم (جلد 19) — Page 494
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۹۴ سیر روحانی (۴) اُترنے کا زندہ ثبوت نظر آتا ہے۔پھر اس مینار پر روشنی بھی ہوتی تھی اور ہوتی ہے اور ہوتی رہے گی۔اس پر چڑھ کر آسمانی گردشوں کا بھی علم ہوا اور غیب کی خبریں معلوم ہوئیں ، اس کے بنانے والے کا نام اس سے اب تک روشن ہے اور ہمیشہ روشن رہے گا اس کے بنانے کا کوئی اور مدعی کبھی پیدا نہیں ہوا اور نہ اس کے بنانے والے کے متعلق کبھی شک ہوا کہ شاید اس کو کسی اور نے بنایا ہو۔مقام محمدیت غرض قرآن کریم ایک ایسے مینار کی خبر دیتا ہے جس پر انسان چڑھا جس پر چڑھ کر اُسے آسمان کی سب سے بڑی ہستی کا پتہ چلا اور وہ عظیم الشان ہستی زمین پر بھی اُتری ، جس مینار سے دنیا میں روشنی پھیلی اور پھیلتی چلی جائے گی ، جس مینار سے غیب کی خبریں ملیں اور ملتی چلی جائیں گی وہ مینا ر کیا ہے؟ وہ مینار مقام محمد بیت ہے سورۃ نجم میں اللہ تعالیٰ اس مینار کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَاى - مَاضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَواى - وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى - إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى - عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى ذُوْمِرَّةٍ فَاسْتَوَى وَهُوَ با لا فُقِ الْأَعْلَى - ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى - فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أوْحَى - مَا كَذَبَ الفُؤَادُ مَارَأى - أَفَتُمْرُونَهُ عَلى مَايَرَى وَلَقَدرَاهُ نَزَلَةً أُخْرَى عِندَسِدْرَةِ الْمُنْتَهى - عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى - اذْيَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى - مَازَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْرَى مِنْ ايَتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى ^ فرماتا ہے ہم شہادت کے طور پر ایک ستارہ کو پیش کرتے ہیں خصوصاً ثریا کو اذَا هَوای جب وہ نیچے اُترا۔کس بات کے ثبوت کے طور پر اسے پیش کرتے ہیں؟ اس بات کے ثبوت کے طور پر کہ مَاضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَواى تمہارا ساتھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہ غلطی میں پڑا ہے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوى اور نہ وہ ہو ا و ہوس میں مبتلاء ہوا اء ہو کر اپنی نفسانی خواہشات کو دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے اِنْ هُوَ الا وحی یوحی بلکہ وہ جو کچھ پیش کر رہا ہے اس وحی کا نتیجہ ہے جو اس پر نازل ہوئی ہے۔