انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 26

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۶ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر وتقلبك في الشجدین میں یہ فرمایا ہے کہ اے محمد ( ﷺ ) تیرے گردو پیش سب موحد ہی موحد ہیں اور تُو موحدین میں پھرتا ہے اور یہ ہمارا کتنا بڑا احسان ہے کہ مکہ جیسی شرک کی سرزمین میں ہم نے موحد ہی موحد پیدا کر دیئے ہیں اور ان لوگوں کو تو حید پر عامل کر دیا ہے جو ایک نہیں دو نہیں سینکڑوں بتوں کی پوجا کرتے تھے۔تو دائیں جاتا ہے تو تجھے موحد نظر آتے ہیں، تو بائیں جاتا ہے تو تجھے موحد ملتے ہیں، تو ادھر جاتا ہے تو تجھے موحد ملتے ہیں اور تو اُدھر جاتا ہے تو تجھے موحد ملتے ہیں۔غرض تو جس طرف بھی جاتا ہے تجھے موحد نظر آتے ہیں اور مکہ جیسی شرک کی بستی میں ہم نے تیرے ساتھ موحدین پیدا کر دیئے ہیں۔تقلب کے معنی ہیں ادھر جانا اور اُدھر جانا۔آپ جب خود اپنے والدین کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ مشرک تھے اور گو وہ رواجاً شرک کرتے تھے مگر کرتے ضرور تھے پھر یہ کہنا کہ آپ کے والدین موحد تھے یہ ایک ایسی بات ہے جس کے متعلق کوئی ضعیف سے ضعیف روایت بھی نہیں ملتی نہ قرآن کریم سے نہ حدیثوں سے اور نہ تاریخ سے۔پس تقلب کا مفہوم یہ نہیں تھا جو عوام نے سمجھ لیا ہے بلکہ یہ لفظ صحابہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔بعض انبیاء کی بیویاں ان پر ایمان نہ لائی تھیں، بعض کی اولا د نے ان کی نبوت کا انکار کر دیا تھا۔حضرت لوظ کی بیوی آخر تک ایمان نہ لائی تھی گو بیویوں یا اولاد کے انکار سے نبی کی شان میں تو فرق نہیں آتا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں تھیں تو خدا تعالیٰ کے دین پر فدا ، آپ کی اولاد تھی تو وہ دین پر قربان ، آپ کے ساتھی تھے تو وہ اسلام کے سچے عاشق ، یہاں تک کہ سب تعلق والوں کو اللہ تعالیٰ نے ساجد بنا دیا اور یہ ایسی بات ہے کہ اور کسی نبی کو نصیب نہیں ہوئی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو جہاں کہیں جاتا ہے موحدین اور ساجدین میں پھرتا ہے، تیرے گھر میں توحید ، تیرے دوستوں میں تو حید اور تو جدھر جاتا ہے تو حید کا بیج بویا جاتا ہے اور تو نے ہزاروں مشرکیں کو ساجدین بنا دیا ہے۔یہ امر بھی یا درکھنا چاہئے کہ ایک نیکی ہوتی ہے بالفعل اور ایک بالقوۃ۔جہاں تک قابلیت اور ترقی کا سوال ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی بعثت سے قبل بالفعل ان میں کوئی قابلیت اور ترقی نہیں تھی مگر جہاں تک بالقوۃ قابلیت اور ترقی کا سوال ہے ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے