انوارالعلوم (جلد 19) — Page 27
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۷ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر کہ اہل عرب میں یہ قابلیت اور ترقی پائی جاتی تھی بلکہ اس حد تک پائی جاتی تھی کہ دنیا کی کوئی قوم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی اور یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی تدبیر کے عین مطابق ہے اللہ تعالیٰ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَ مَكَرُوا وَ مَكَرَ الله، والله خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ١٣ پس اللہ تعالیٰ بھی تدبیریں کرتا ہے جو اس کی حکمت پر مبنی ہوتی ہیں اور یہ بھی اس کی تدبیر ہی تھی کہ اس نے اپنا پیغام دنیا تک پہنچانے کے لئے عربوں میں اتنی قابلیت رکھ دی تھی کہ وہ اس بوجھ کو اُٹھا سکتے۔ایک عقلمند انسان کسی بچہ پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جو اُس کی طاقت سے بالا ہو پھر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے انسان پر اپنا پیغام پہنچانے کا بوجھ ڈال دے جو اس کام کی اہلیت نہ رکھتا ہو یا وہ اپنے نبی کو کسی ایسی قوم میں بھیج دے جس میں ترقی کی قابلیت بالقوہ بھی نہ پائی جاتی ہو۔بے شک عربوں کے اندر اخلاق فاضلہ نہ تھے لیکن اس بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان میں افعال حسنہ ضرور تھے جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ عربوں کے اندر اتنی قابلیت تھی یا نہ تھی کہ وہ اعلیٰ ترقیات کو حاصل کر سکیں ہم کہیں گے کہ اگر ان میں اعلیٰ قابلیت نہ ہوتی تو اللہ تعالی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قوم کے اندر کیوں بھیجتا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے اس مقام پر کھڑا کیا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہترین انسان تھے جو اس عظیم الشان بوجھ کو اُٹھا سکتے اور عربوں کو اس لئے چنا کہ عرب ہی دنیا میں وہ بہترین قوم تھے جو اعلیٰ ترقیات حاصل کر سکتے تھے۔بے شک ابوبکر اسلام سے پیشتر صرف ابوبکر تھے لیکن ان کے اندر بالقوة نیکی موجود تھی اللہ تعالیٰ نے عربوں کو چُنا ہی اس لئے تھا کہ ان میں قابلیت پائی جاتی تھی۔کسی کا یہ کہنا کہ عرب اسلام سے پیشتر اسلام کی تعلیم پر کیوں نہ عمل کرتے تھے یہ محض حماقت ہوگی۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ قابل تو رومی بھی تھے، ایرانی بھی تھے یا ہندوستانی بھی تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر رومی قابل ہوتے تو اللہ تعالٰی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اندر بھیجتا ، اگر ایرانی قابل ہوتے تو اللہ تعالٰی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اندر مبعوث فرماتا ، اگر ہندوستانی قابل ہوتے تو اللہ تعالٰی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اندر بھیجتا اور اگر افریقی اِس قابل ہوتے تو اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے اندر بھیجتا لیکن اللہ تعالیٰ