انوارالعلوم (جلد 19) — Page 460
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۶۰ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں کی طرف دوڑتی جاتی اور نسوانی زبان میں یہ کہتی جاتی کہ يَا رَسُولَ الله ! آپ نے یہ کیا کیا ؟ يَا رَسُولَ الله ! آپ نے یہ کیا کیا ؟ یہ ایک ادبی زبان ہے جس کو عورتیں خصوصاً مصیبت کے وقت استعمال کرتی ہیں۔ عورت کا بچہ مر جاتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ ہائے بچہ تو نے کیا کیا ؟ حالانکہ موت پر بچے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ مگر جذبات کی فراوانی کی وجہ سے وہ یہ نہیں سمجھتی کہ یہ کسی حادثہ کی وجہ سے ۔ وجہ سے مرا ہے، بلکہ مجھتی ہے کہ شاید میرے دل کو دُکھانے کے لئے مجھ سے جُدا ہوا ہے۔ وہی محبت ، وہی جذبات والی محبت جس کو صرف عورت ہی سمجھ سکتی ہے ، وہی محبت جس کے متعلق صرف عورت ہی جانتی ہے کہ کس طرح اپنے محبوب سے اس کا اظہار کیا جاتا ہے، وہی محبت اپنی تمام کیفیات اور جذبات کے ساتھ صحابیات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منتقل کر چکی تھیں ۔ وہ محبت جو ایک لڑکی کو اپنے باپ سے ہوتی ہے، وہ محبت جو ایک بہن کو اپنے بھائی سے ہوتی ہے ، وہ محبت جس کے جوش میں ایک شاعر عورت اپنے خاوند کی یاد میں تڑپتی ہے ، وہ محبت جس کے جوش میں بہنیں اپنے ویر کی یاد تازہ رکھتی ہیں اسی محبت اور اسی پیارا اور اسی عشق کے ساتھ وہ عورت بھاگتی جاتی اور یہ کہتی جاتی تھی یا رَسُولَ الله ! آپ نے یہ کیا کیا يَا رَسُولَ الله ! آپ نے یہ کیا کیا ۔ جب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو اس کے گھٹنے لڑکھڑا گئے اور وہ کھڑی نہ رہ سکی ۔ عورتوں کے لئے مصافحہ جائز نہیں اس لئے اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو پکڑ کر نہایت محبت کے ساتھ بوسہ دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اے عورت ! ہم تجھ سے ہمدردی کرتے ہیں کہ اس جنگ میں تیرا باپ، تیرا خاوند اور تیرے بھائی سب شہید ہو گئے ہیں ۔ اس نے کہا يَا رَسُولَ الله ! آپ کی زندگی کے بعد مجھے یہ خیال بھی کس طرح آ سکتا ہے کہ کون مارا گیا ہے جب تک آپ زندہ ہیں تو سب کچھ موجود ہے۔ 19 اسی جنگ میں حضرت معاذ انصاری کا ایک نوجوان بھائی بھی جو نہایت بہادر اور جری سپاہی تھا مارا گیا تھا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے تو حضرت معاذ نے اس خوشی میں فخریہ طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل پکڑی ہوئی تھی کہ آج ہم خدا کے رسول کو سلامتی کے ساتھ واپس لائے ہیں اور اس قابل ہو سکتے ہیں کہ مدینہ والوں کو اپنا منہ