انوارالعلوم (جلد 19) — Page 457
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۵۷ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں نہیں لیا کیونکہ جن لوگوں کی وجہ سے لشکر میں بھا گڑ مچی تھی وہ مہاجرین کے رشتہ دار اور مکہ کے رہنے والے ہی تھے۔اس طرح ایک رنگ میں آپ نے اُن پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔جب عباس نے آواز دی اور کہا اے انصار ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے تو ایک انصاری کہتے ہیں کہ ہمارے گھوڑے اُس وقت اتنے بے قابو تھے اور ہمارے اونٹ اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ ہم پورا زور لگا کر اپنے گھوڑوں کی باگیں اور اپنے اونٹوں کی نکیلیں کھینچتے اور اتنا زور لگاتے کہ اُن کا منہ اُن کی کمر سے آ لگتا مگر باوجود اس کے کہ ان کے منہ اُن کی کمر سے آ لگتے پھر بھی وہ اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ جب باگیں ذرا ڈھیلی ہوتیں وہ پھر واپس مکہ کی طرف دوڑ پڑتے۔مگر وہی صحابی کہتے ہیں جب عباس کی یہ آواز ہمارے کانوں میں آئی کہ اے انصار ! خدا کا رسول تم کو بلا تا ہے تو اُس وقت ہم کو یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ہم زندہ ہیں اور اس دنیا میں بس رہے ہیں بلکہ ہمیں یوں معلوم ہوا کہ ہم سب اپنی اپنی قبروں میں پڑے ہیں ، حشر کا دن ہے اور اسرافیل فرشتہ ہمیں آواز دے رہا ہے۔ہم نے اپنی تلواریں نکال لیں اور اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کو زور سے موڑ نا شروع کیا۔جن کی سواریاں مڑ گئیں وہ سواریوں پر اور جن کی سواریاں مٹر نہ سکیں انہوں نے تلوار سے اپنی سواریوں کی گردنیں کاٹ کر پیدل لبیكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَبَيْک کہتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑنا شروع کیا اور تھوڑی دیر میں ہی سارالشکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گیا کلا تو دیکھو کیسا خطرے کا وقت تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا۔صرف بارہ آدمی آپ کے ساتھ تھے ، چار ہزار کا لشکر آپ کے سامنے آیا اور دونوں طرف سینکڑوں تیرانداز کھڑے تھے مگر آپ نے ذرا بھی پرواہ نہ کی بلکہ جب کسی نے آگے بڑھنے سے روکا تو آپ نے یہی کہا کہ خدا کے رسول میدانِ جنگ سے بھاگا نہیں کرتے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فصل لربك وانحر کا کامل نمونہ پیش کیا ہے پھر ہم صحابہ اور صحابیات کو دیکھتے ہیں تو ان کی قربانیاں بھی ہمیں اتنی شاندار نظر آتی ہیں کہ جن کی مثال دنیا کی اور کسی قوم میں نہیں ملتی۔عورت اپنے بچے سے کتنی محبت رکھتی ہے اور عورت کے لئے یہ امر کیسا مشکل ہوتا ہے کہ وہ