انوارالعلوم (جلد 19) — Page 447
انوار العلوم جلد ۱۹ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں ہمارے دربار میں سے نکال دو۔اُس وقت شبلی بھی دربار میں بیٹھے ہوئے تھے۔جو نہی انہوں نے یہ بات سنی ان کی چیخیں نکل گئی۔بادشاہ نے کہا کہ تم کیوں روتے ہو؟ شبلی نے کھڑے ہو کر کہا۔حضور میرا استعفیٰ منظور فرما لیجئے اب میں ملازمت کے لئے تیار نہیں۔بادشاہ نے انہیں بہت سمجھایا مگر انہوں نے کہا میں اب یہاں رہنا نہیں چاہتا۔بادشاہ نے کہا آخر وجہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا وجہ یہ ہے کہ یہ جرنیل جو آج آپ کے سامنے پیش ہوا اس نے آپ کی بادشاہت کے استحکام کے لئے کس قدر کوششیں کیں تھیں۔یہ شخص سال بھر لڑائیاں لڑتا رہا۔ہر صبح جب اس کی بیوی اُٹھتی تو وہ بجھتی تھی کہ شاید آج میں بیوہ ہو جاؤں گی اور ہر شام جب وہ سوتی تو دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ سوتی اور خیال کرتی کہ جب میں صبح اُٹھوں گی تو شاید میری بیوگی کی خبر آجائے گی۔اس کے بچے بھی ہر صبح یہی خیال کرتے تھے کہ شاید آج ہم یتیم ہو جائیں گے اور ہر شام اس خیال سے سوتے تھے کہ شاید صبح جب طلوع ہوئی تو ہمیں اطلاع ملے گی کہ آج سے تم یتیم ہو گئے ہو۔اتنی بڑی قربانیوں کے بعد جب یہ شخص واپس آیا تو آپ نے اسے عزت افزائی کے طور پر کچھ کپڑے دیئے مگر ایک ایسی مرض کی وجہ سے جو اس کے اپنے اختیار میں نہ تھی اسے چھینک آئی فضلہ بہہ پڑا اور چونکہ رومال لانا اُسے یاد نہ رہا تھا اُس نے خلعت سے ہی ناک پونچھ لیا اس پر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے اس کی اس حرکت کو اس قدرنا پسند کیا کہ اس کا خلعت اتر والیا محض اس لئے کہ اس نے خلعت کا ناجائز استعمال کیوں کیا ہے۔یہ کہہ کر ان کی پھر چیچنیں نکل گئیں اور انہوں نے روتے ہوئے کہا اے بادشاہ! مجھے خدا نے ایک خلعت بخشا ہے۔مجھے بھی اس نے انسانیت دی۔مجھے بھی اس نے عقل دی ، مجھے بھی اس نے کان ، ناک ، آنکھیں ، منہ، زبان اور دوسرے اعضاء دیئے۔اس جرنیل کو تو یہ خلعت اتنی بڑی خدمت کے بعد ملا تھا مگر مجھے اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی خدمت اور بغیر کسی قربانی کے یہ خلعت دیا۔پھر اس نے تو صرف ناک پونچھا تھا میں نے تو اس خلعت کو اتنا خراب کیا ہے وہ اب پہچانا تک نہیں جاتا اس لئے میں حیران ہوں کہ جب میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گا تو میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔میں اب حقیقت کو سمجھ چکا ہوں میں ملازمت کرنے کے لئے تیار نہیں، میرا استعفے منظور فرما لیا جائے۔اس کے بعد خیلی مختلف بزرگوں کے پاس گئے اور کہا کہ میں تو بہ کرنا چاہتا ہوں مگر وہ اپنے