انوارالعلوم (جلد 19) — Page 442
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۴۲ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں ہماری جماعت کے خلیفہ اول کی بہن ایک پیر کی مرید تھیں۔ایک دفعہ بہن ملنے آئیں تو حضرت خلیفہ اول نے ان سے کہا کہ بہن! تم نمازوں میں بہت سست ہو ، آخر تمہارا کیا بنے گا ؟ اس نے کہا میں نے جس پیر کی بیعت کی ہوئی ہے وہ کہتے ہیں کہ اب چونکہ تم نے میری بیعت کر لی ہے اس لئے تمہارا ذمہ دار میں ہوں تمہیں کسی قسم کا فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔حضرت خلیفہ اول نے اپنی بہن سے کہا بہن ! اپنے پیر سے پوچھنا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے ہم سے پوچھا تو کیا جواب دیں گے؟ اس نے کہا اچھا اب میں اپنے پیر سے ملنے گئی تو اُن سے یہ بات ضرور دریافت کروں گی۔چنانچہ کچھ مدت کے بعد وہ پھر آپ سے ملنے آئی تو آپ نے اس سے پوچھا کہ اپنے پیر سے تم نے وہ بات دریافت کی تھی ؟ اُس نے بتایا کہ ہاں میں نے دریافت کی تھی۔پھر اس نے سنایا کہ جب میں نے یہ بات دریافت کی کہ تو پہلے تو اُس نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے یہ شرارت تجھے نورالدین نے سکھائی ہے مگر یا درکھو تمہیں کسی فکر کی ضرورت نہیں۔جب تم سے خدا سوال کرے گا تو میں کھڑا ہو کر کہہ دوں گا اس کا میں ذمہ دار ہوں ، اس پر تم فوراً جنت میں چلی جانا۔میں نے کہا پیر صاحب! آپ کی باری آئی تو آپ کیا جواب دیں گے؟ اس پر کہنے لگے جب مجھ سے خدا پوچھے گا اور کہے گا کہ آؤ اور حساب دو تو میں جلال سے جواب دوں گا کہ کیا امام حسین کی کربلا میں قربانی کافی نہیں تھی کہ اب ہمیں بھی دق کیا جاتا ہے؟ اس پر فرشتے میرا راستہ بھی چھوڑ دیں گے اور میں بھی جنت میں چلا جاؤں گا۔غرض مختلف قسم کے بہانے لوگوں نے ایجاد کر لئے ہیں تا کہ شریعت کی پابندیوں سے آزاد ہو جائیں۔آخر کونسی دُنیوی ذمہ داریاں تھیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ دنیا کے تمام کاموں سے قریباً فارغ ہو کر دین کے کاموں میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔وہ زمیندار تھے مگر بہت کم زمینداری کرتے تھے ، وہ تاجر تھے مگر بہت کم تجارت کرتے تھے۔سال میں چار پانچ لڑائیاں انہیں لڑنی پڑتی تھیں اور ایک ایک لڑائی کے لئے بعض دفعہ پندرہ پندرہ ہیں ہیں دن سفر کرنا پڑتا تھا۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر دشمن سے جنگ کرنے والے صحابہ کون تھے ؟ وہی تاجر اور وہی زمیندار تھے جن کی معاش کا در وامدار ہی تجارت اور زمینداری پر تھا مگر باوجود اس کے جب بھی خدا کی طرف سے آواز آتی تو وہ فوراً اپنے تمام