انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 423

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۲۳ دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی اول: اصولی تعلیم۔یہ غیر مبدل ہے اصولی طور پر۔مبدل ہے حالات مخصوصہ میں۔نماز میں بیمار کا بیٹھ جانا یا نماز لیٹ کر پڑھنا، وضو نہ کرنے کی صورت میں تیم کر لینا ، رمضان کے مہینہ میں سفر یا بیماری کی وجہ سے دوسرے دنوں میں روزہ رکھ لینا یہ سب حالات مخصوصہ کی تبدیلیاں ہیں۔اس طرح جن ملکوں میں چوبیس گھنٹے سے دن یا رات بڑے ہوتے ہیں ان میں روزہ، زکوۃ اور حج کے فرائض کو دوسرے ممالک کے دنوں اور مہینوں پر قیاس کر کے پورا کرنا یہ سب غیر مبدل اصولی حکم کی تبدیلیاں ہیں جو حالات مخصوصہ میں ہو جاتی ہیں۔دوسرے جزوی تعلیم۔یہ کئی قسم کی ہے۔(الف) غیر معین احکام ہیں جن کی کمیت یا کیفیت افراد یا جماعتوں پر چھوڑ دی گئی ہے جیسے نفلی نماز نفلی صدقہ نفلی روزہ ،عمرہ۔(ب) مماثل حالات میں مسائل اخذ کرنے کا حق دیا ہے اس طرح قانون سازوں کے لئے مواقع نکلتے ہیں۔(ج) جرائم بتائے ہیں سزا تجویز نہیں کی اس طرح بھی قانون سازی کے لئے مواقع نکالے ہیں۔اسلامی قانون کے اصول یہ ہیں يُعَلِّمُهُمُ الكتب والحكمة ويزكيهم " ا ہر حکم کسی فائدہ کے لئے ہونا چاہئے۔ہر نہی کسی نقصان کے دور کرنے کے لئے ہونی چاہئے۔۔ہر حکم دنہی تزکیۂ ذہن و قلب اور قومی ترقی کے مدنظر ہونے چاہئیں۔لا يكلف الله نفسا إلا وُسْعَهَا کوئی حکم ایسا نہیں ہونا چاہئے جو فرد یا قوم کی طاقت سے بالا ہو۔یہ طاقت جسمانی بھی ہو سکتی ہے امکانی بھی یعنی ظاہر میں طاقت ہو لیکن امکانی ترقی کو نقصان پہنچا دے اور ذہنی بھی یعنی قوم کی ذہنی قوتوں کو ضائع کر دے۔۵ قانون حریت ضمیر کو مارنے والا نہ ہو۔وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ بِمَا انْزَلَ اللهُ فیو اور یہود کی نسبت ہے وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِنْدَ هُمُ التَّوْرية فِيهَا حُكُمُ اللهِ ثُمَّ يَتَوَلَّونَ مِنْ بَعْدِ ذلِكَ کے مسلمانوں کے متعلق فرمایا فيه