انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 419

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۱۹ دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی ایگزیکٹو باڈی سسٹم۔(iii) قوموں کے منتخب نمائندوں سے مشورہ لینا جیسے آجکل کی پارلیمنٹس ہوتی ہیں۔یہ تین طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہیں ) لیکن جہاں تک خلافت کا سوال ہے خلیفہ مشورہ لینے کا پابند ہے مشورے پر عمل کرنے کا پا بند نہیں۔پس اگر سو فیصدی خلافت کے اصول پر پاکستان کا آئین بنایا جائے تو حکومت کا ہیڈ ایگزیکٹو ہیڈ ہوگا ، ایگزیکٹو کا انتخاب اس کے اپنے اختیار میں ہو گا وہ تمام ضروری امور میں پبلک کے نمائندوں سے مشورہ لے گا لیکن اُن مشوروں پر کار بند ہونے کا پابند نہیں ہوگا۔لیکن میں پہلے بتا چکا ہوں کہ پاکستان کا ہیڈ خلیفہ نہیں ہوگا کیونکہ نہ ساری اسلامی حکومتیں اس کو ہیڈ تسلم کریں گی نہ علماء اس کو مذہبی ہیڈ تسلیم کریں گے اس لئے ہم خلافت کے پس پردہ جو اصول کارفرما ہیں ان سے روشنی تو حاصل کر سکتے ہیں ان کی پوری نقل نہیں کر سکتے۔اور چونکہ خلافت اُس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک دنیا کی سب مسلمان حکومتیں اور افراد اس انتخاب پر متفق نہ ہو جائیں یا اکثریت متفق نہ ہو جائے اور یہ ناممکن ہے اس لئے یہ کہنا کہ پاکستان کا آئین اساسی اسلام پر مبنی ہو درست نہیں۔جس طرح انگریزی حکومت کے ماتحت ہمیں شریعت کے وہ احکام نافذ کرنے کا اختیار نہ تھا جو حکومت کے متعلق تھے اور ہم اس کی وجہ سے گنہ گار نہیں تھے اسی طرح اسلامی آئین حکومت چونکہ خلافت سے تعلق رکھتا ہے اور خلافت کا قیام مسلمان افراد اور حکومتوں کی اکثریت کے اتفاق کے بغیر ناممکن ہے اس لئے اگر ہم اس نظام کو قائم نہیں کرتے تو ہم ہرگز خدا تعالیٰ کے سامنے مجرم نہیں کیونکہ اس نظام کے قائم کرنے کے لئے جو شرطیں اسلام نے مقرر کی ہیں وہ شرطیں اس وقت پوری نہیں ہوتیں۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کی حکومت اسلامی اثر سے بالکل آزاد ہو؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر گز نہیں۔جو چیز ہمارے اختیار میں نہ ہو اس کے چھوڑنے میں تو ہم حق بجانب کہلا سکتے ہیں لیکن جو چیز ہمارے اختیار میں ہوا سے چھوڑنے کا ہمیں کوئی حق حاصل نہیں۔انگریزی حکومت میں اگر ہم چور کا ہاتھ نہیں کاٹتے تھے تو ہم گنہگار نہیں ہوتے تھے لیکن اگر ہم نماز نہیں پڑھتے تھے تب ضرور گنہگار ہوتے تھے۔اگر ہم ایک زانی کو کوڑے نہیں لگاتے تھے تو ہم