انوارالعلوم (جلد 19) — Page 418
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۱۸ دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی اختلاف پیدا ہو جاتا ہے وہ آیتیں تو آئین اساسی میں داخل سمجھی جائیں گی کیونکہ وہ غیر مشتہہ ہیں لیکن اس کے الف یاب کے معنی آئین اساسی کا حصہ نہیں سمجھے جائیں گے بلکہ الف کو اختیار کر لینا یاب کو اختیار کر لینا حکومت وقت کے اختیار میں ہوگا۔پس جہاں تک آئین اساسی کا سوال ہے اگر پاکستان اسلامی آئین اساسی کو اختیار کرنا چاہتا ہے تو اُسے اپنے آئین میں یہ دفعہ رکھنی ہوگی کہ پاکستان کے قوانین جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے قرآن وسنت پر مبنی ہوں گے اور جن امور میں قرآن وسنت سے واضح روشنی نہ ملتی ہوگی اور اجتہاد کی اجازت ہوگی وہاں قرآن کریم ، سنت اور کلام رسول کی روشنی میں قانون تجویز کئے جائیں گے۔اگر قانون اساسی اسلامی نہیں بلکہ حنفی یا شافعی یا حنبلی یا مالکی بنانا ہوگا تو پھر اوپر کے قانون میں یہ بھی اضافہ کرنا ہو گا کہ یہ قانون فلاں فلاں فرقہ کے علماء کے اجتہادوں پر مبنی ہوں گے مگر اس خصوصیت کی وجہ سے یہ قانون اسلامی آئین نہیں بلکہ حنفی آئین یا شافعی آئین یا حنبلی آئین یا مالکی آئین کہلانے کے مستحق ہوں گے کیونکہ اسلام کے لفظ میں تو سب ہی فرق اسلام شامل ہیں۔اسلامی اصول پر مبنی گورنمنٹ کے لئے چونکہ انتخاب کی شرط ہے اس لئے اگر اسلامی آئین پر گورنمنٹ کی بنیا د رکھی جائے گی تو مندرجہ ذیل شرائط کو مدنظر رکھنا ہوگا۔اول: حکومت کا ہیڈ منتخب کیا جائے گا۔انتخاب کا زمانہ مقرر کیا جا سکتا ہے کیونکہ پاکستان کا ہیڈ خلیفہ نہیں ہوگا خلیفہ کو سارے مسلمانوں پر حکومت حاصل ہوتی ہے اور وہ صرف حکومت کا ہیڈ نہیں ہوتا بلکہ مذہب کا بھی ہیڈ ہوتا ہے۔پاکستان کے ہیڈ کو نہ دوسرے ملکوں کے مسلمان تسلیم کریں گے اور نہ علماء مذہب کے مسائل میں اُس کو اپنا ہیڈ ماننے کے لئے تیار ہوں گے اس لئے خلافت کے اصول پر اس کے اصول تو مقرر کئے جا سکتے ہیں مگر نہ وہ خلیفہ ہو سکتا ہے نہ خلافت کے سارے قانون اُس پر چسپاں ہو سکتے ہیں۔خلافت کے اصول یہ ہیں۔(1) اُس کا تقرر انتخابی ہو ( اس انتخاب کے کئی طریق ہیں لیکن اس تفصیل میں جانے کی اس وقت گنجائش نہیں۔(۲) وہ مملکت کے کام مشورہ سے چلائے ( مشورہ کے لئے اسلام کے تین اصول ہیں (i) عام مسلمانوں سے مشورہ لینا یعنی ریفرینڈم۔(ii) چند تجربہ کار لوگوں سے مشورہ لینا یعنی