انوارالعلوم (جلد 19) — Page 393
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۹۳ تقریر جلسه سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۷ء ہالینڈ میں انڈونیشیا کے لوگ بھی بہت کچھ توجہ کر رہے ہیں ۔ خصوصاً وہ جو عیسائی ہو چکے ہیں ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ہالینڈ اسلام کیلئے ایک زرخیز ملک ثابت ہوگا سب سے زیادہ سخت فرانس کا ملک ثابت ہوا ہے وہاں دو سال سے ایک شخص بھی اسلام میں داخل نہیں ہوا غالبا اس لئے کہ فرانس عیاش ملک ہے اور وہ مذہب سے کوئی لگاؤ نہیں رکھتا۔ سوئٹزرلینڈ سوئٹزر لینڈمیں اللہ تعالی کے فضل سے کا میابی شروع ہوگئی ہے۔ ابتداء میں جب ہمارے مبلغین وہاں گئے تو ایک شخص ان سے ملنے کیلئے آیا اور جب اُسے معلوم ہوا کہ یہ لوگ اسلام کی تبلیغ کیلئے ہمارے ملک میں آئے ہیں تو اس نے حیرت سے کہا کہ آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ کے لوگ مسلمان ہو جائیں گے؟ ایک اور شخص نے کہا مسلمان یا تو وہ بے وقوف لوگ ہو سکتے ہیں جن کو اپنے مذہب پر یقین نہ ہو اور یا پھر بھوکے اور قلاش لوگ مسلمان ہو سکتے ہیں مگر ہمارے ملک میں یہ دونوں باتیں نہیں ۔ ہمارا ملک اقتصادی طور پر نہایت ترقی یافتہ ہے اور ہمارے ملک کے لوگ ذہین بھی بہت ہیں اس لئے اس ملک میں آپ اسلام کی اشاعت کی امید نہ رکھیں ۔ لیکن تھوڑے : تھوڑے ہی دن ہوئے سوئٹزر لینڈ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک شخص مسلمان ہو گیا اور ایک مجسٹریٹ کے متعلق یہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ اسلام کی تحقیق میں لگا ہوا ہے۔ امریکہ یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں ہمارا پہلے ایک مشن تھا مگر اب وہاں چار مشن قائم کر دیئے گئے ہیں اور ابھی ان مشنوں کو اور بھی بڑھانے کی تجویز ہے۔ یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کے لوگوں میں یہ خصوصیت ہے کہ وہ انگلستان والوں سے زیادہ قربانی کرتے ہیں ۔ انگلستان کے لوگ آہستہ آہستہ قربانی کی طرف آتے ہیں اور یہ دیکھتے ہوئے آتے ہیں کہ کہیں وہ سوسائٹی میں بدنام تو نہیں ہو جائیں گے لیکن امریکہ میں جو مسلمان ہوتے ہیں وہ بہت جلد اسلامی مسائل سیکھنے لگ جاتے ہیں ۔ ہالینڈ میں بھی یہی دیکھا گیا ہے کہ وہاں جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے ہیں وہ اسلامی مسائل پر عمل کرنے کی تڑپ رکھتے ہیں لیکن انگلستان میں ہمیں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی سوائے بشیر آرچرڈ کے ۔ بشیر آرچرڈ فوج میں لیفٹیننٹ تھے ہندوستان آئے تو انہیں قادیان کا پتہ چلا اور وہ مجھ سے ملنے کیلئے آئے ۔ یہاں آ کر وہ مختلف مسائل پر بحث کرتے رہے اُس