انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 392

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۹۲ تقریر جلسه سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۷ء روپیہ کماؤں تا کہ اس سے ضروری لٹریچر چھپوایا جا سکے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ لطیفہ بھی لکھا کہ ایک شخص جس کے ہاں میں ٹھہرا ہوا تھا اُس سے سارا دن بحث ہوتی رہی۔کل وہ مجھے ملا تو اُس نے کہا بشیر آرچر ڈ! تمہارے رہنے اور بحث کرنے کا یہ نتیجہ تو نہیں نکلا کہ تم مجھے اپنے مذہب میں داخل کر لیتے لیکن یہ نتیجہ ضرور نکلا ہے کہ اب میں عیسائی نہیں رہا۔عیسائیت سے مجھے بدظنی ہوگئی ہے۔جرمن مشن جرمنی میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ ہورہی ہے۔ابھی حال ہی میں وہاں ایک اور مسلمان کا اضافہ ہوا ہے۔جرمنی کے نو مسلموں میں تبلیغ کا اچھا جوش پایا جاتا ہے اور ان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی طرف میلان لوگوں کی طبائع میں بڑھ رہا ہے۔وہ کہتے ہیں درجنوں آدمی اسلام سے رغبت رکھتے اور اس کی تعلیم کی طرف متوجہ ہیں۔ایک نو مسلم نے لکھا ہے کہ میں نے جب سے قادیان کے حالات سنے ہیں میں ہر وقت بے تاب رہتا ہوں۔اگر آپ اجازت دیں تو میں قادیان کی حفاظت کیلئے آ جاؤں۔ایک ایسا ملک جس کے لوگوں کا ہمارے ساتھ مذہبی ، ملکی اور نسلی لحاظ سے کوئی تعلق نہیں وہاں کے ایک شخص کا محض اس لئے کہ وہ ایک کلمہ کے رشتہ میں پرویا ہوا ہے جرمنی میں بیٹھے ہوئے اس غرض کیلئے بیتاب ہونا کہ مجھے بھی قادیان کی حفاظت کیلئے کچھ خدمت کرنے کا موقع مل جائے اسلام اور احمدیت کی صداقت اور وہاں کے دوستوں کے اخلاص کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔ہالینڈ مشن ہالینڈ میں گوا بھی مشن کھولے چند دن ہی ہوئے ہیں مگر اچھی کا میابی ہورہی ہے تھوڑے ہی دن ہوئے ایک نوجوان جو بیرسٹری میں پڑھتا ہے اور بہت جوشیلا ہے احمدیت میں شامل ہوا ہے ایک نو مسلمہ نے بھی اسلام قبول کیا ہے بلکہ احمدیت میں شامل ہوتے ہی اس نے ایسی عقیدت اور اخلاص کا مظاہرہ کیا ہے جو نہایت ایمان افزا ہے۔اس نے اپنی کسی ضرورت کیلئے سو پونڈ جمع کئے ہوئے تھے ایک دن وہ ہمارے مبلغ کے پاس آئی اور کہنے لگی میں سمجھتی ہوں کہ موجودہ حالات میں آپ کیلئے مرکز سے خرچ کا آنا مشکل ہوگا میرے پاس آٹھ دس سال کا اندوختہ ہے اور یہی میری ساری عمر کی پونچی ہے میں اسے آپ کی خدمت میں پیش کرتی ہیں۔