انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 391

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۹۱ تقریر جلسه سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۷ء پروفیسر تھے اور اس میں بہت شہرت رکھتے تھے ہماری جماعت نے انہیں اس غرض کیلئے بلوایا تھا تا کہ وہ مشورہ دے سکیں کہ جغرافیائی طور پر باؤنڈری کیسی ہونی چاہئے۔یہاں آ کر اُن کو اپنی آنکھوں سے تمام حالات دیکھنے کا موقع ملا وہ بار بار کہتے تھے کہ مسلمان کی ساری کمزوری اس کی شرافت کی وجہ سے ہے۔وہاں تو ہم سنتے تھے کہ مسلمان وحشی ہوا کرتا ہے مگر یہاں آ کر یہ نظر آیا کہ جو مطالبہ بھی مسلمان کرتا ہے اگر میرے ذہن میں سو ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے اتنی چاہئے اور جو ہندو مطالبہ کرتا ہے اس کے متعلق اگر میرے ذہن میں سو ہوتا ہے تو وہ ہزار سے کم نہیں ٹھہرتا۔مجھے ڈر ہے کہ کمیشن کہیں یہ نہ سمجھ لے کہ چونکہ مسلمانوں نے اتنا تھوڑا مانگا ہے اس لئے چلو انہیں اتنا ہی دے دو۔انگلستان میں بھی اُنہوں نے اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ مسلمانوں نے انتہا درجہ کی شرافت دکھائی ہے اور انتہا درجہ کی امن پسندی کا ثبوت دیا ہے۔یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ انگلستان کے ایک انگریز نومسلم نے اپنی زندگی بشیر آرچرڈ اسلام کی خدمت کیلئے وقف کر دی ہے اور وہ اس وقت تبلیغ کا کام بڑے جوش اور اخلاص کے ساتھ کر رہے ہیں۔ہم نے اُن کا نام بشیر رکھا ہے۔پہلے ان کا نام آرچرڈ تھا وہ ایک مذہبی خاندان میں سے ہیں۔ان کا بھائی رومن کیتھولک پادری ہے مگر وہ اتنا تعصب رکھتا ہے کہ جب سے یہ اسلام لائے ہیں اُس نے ملنا جلنا بھی بند کر دیا ہے۔ان کی والدہ بھی متعصب عیسائی ہیں۔اتفاق کی بات ہے کہ فسادات کے ایام میں وہ قادیان میں ہی تھے اور چونکہ اُنہیں فوٹو لینے کا شوق ہے اور کیمرہ ان کے پاس تھا وہ فوٹو لیتے رہے۔میں نے یہ دیکھ کر کہ اب یہاں ان کی تعلیم نہیں ہو سکتی انہیں واپس انگلستان بھجوا دیا۔اب وہ دورہ کر کے لوگوں کو تصویر میں دکھاتے پھرتے ہیں کہ تم تو کہتے ہو ہندوؤں اور سکھوں نے کچھ نہیں کیا مگر ان تصویروں سے ظاہر ہے کہ لوٹ مار اور فسادسب اُنہوں نے ہی کیا ہے اس کا بھی لوگوں پر بہت اثر ہوا ہے۔اس نوجوان انگریز مبلغ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے سے بہت بڑا اخلاص پایا جاتا ہے۔انہیں تبلیغ کیلئے لندن سے باہر ایک علاقہ میں بھجوایا گیا تھا وہاں سے اُن کی چٹھی آئی ہے کہ میں نے تبلیغ کر کے بہت اچھا اثر پیدا کر لیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں ہمارے پاس لٹریچر کی بہت کمی ہے اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں دو تین ہفتہ کیلئے مزدوری کر کے کچھ