انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 383

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۸۳ تقریر جلسه سالانه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء کی ضرورت نہیں ، ہمارا ہادی اور ہمارا راہنما قرآن ہے جس میں سارے علاج موجود ہیں اور۔اس میں جو علاج بتایا گیا ہے وہ نسل کو بڑھانا ہے مگر ہوشیاری اور بیداری سے۔اس سے رزق کی مشکلات بھی حل ہو جائیں گی دولت کے رستے بھی نکل آئیں گے اور سیاسی ضعف بھی طاقت میں بدل جائے گا۔میں حیران ہوتا ہوں کہ کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ باہر سے چالیس لاکھ آدمی آ گیا ہے یہ چالیس لاکھ آدمی کھائے گا کہاں سے؟ حالانکہ اس چالیس لاکھ کو شامل کر کے بھی پاکستان کا رقبہ اتنا زیادہ ہے کہ ابھی اس میں اور بھی بہت سے لوگوں کے سمانے کی گنجائش موجود ہے۔مغربی پنجاب کی آبادی ایک کروڑ ستر لاکھ ہے اور سارے مغربی پاکستان کی آبادی ۲ کروڑ ستر لاکھ ہے لیکن سارے پاکستان کا جو رقبہ ہے وہ بشمولیت بلوچستان تین لاکھ ۷۳ ہزار میل کے قریب ہے۔کشمیر ملے تو یہ رقبہ اور بھی بڑھ جائے گا اور چار لاکھ سے اوپر ہو جائے گا۔انگلستان ، ویلز اور سکاٹ لینڈ کا رقبہ اٹھاسی ہزار میل ہے اور ۸۸ ہزار میل رقبہ میں اس وقت ۳ کروڑ ۷۵ لاکھ آدمی بس رہے ہیں۔پہلے یہ آبادی چار کروڑ تھی مگر اب گر رہی ہے گویا انگلستان ، ویلز اور سکاٹ لینڈ کے رقبہ سے یہ چار گنا بڑا ملک ہے اور چونکہ وہاں ۸۸ ہزار میل کے رقبہ میں ۳ کروڑ ۷۵ لاکھ آبادی ہے اس حساب سے پاکستان کی کل آبادی اٹھارہ کروڑ ہونی چاہئے لیکن ہے سات کروڑ، گویا ابھی گیارہ کروڑ کی آبادی بڑھ سکتی ہے۔یہ دیکھ کر کہ انگلستان زراعتی ملک نہیں دوسرے اس وقت وہاں آبادی کم ہو رہی ہے اس کی آبادی بیس کروڑ سے بھی او پر جاسکتی ہے صرف توجہ اور ان ذرائع سے کام لینے کی ضرورت ہے جو اللہ تعالیٰ نے آبادی کی ترقی کیلئے مقرر فرمائے ہیں۔مستقبل آدمیوں سے بنا کرتا ہے میں نے یا کہ چھلے نوں بھی بیان کیا تھا میں نے جیسا کہ مستقبل آدمیوں سے بنا کرتا ہے۔مستقبل زمین سے نہیں بنتا۔بغیر اس کے کہ انسان کے پاس زمین کا کوئی ٹکڑا ہو جب وہ محنت کرتا ہے تو کسی نہ کسی طرح اپنی روزی ضرور کمالیتا ہے بلکہ جائز باتیں تو الگ رہیں اگر انسان نا جائز رنگ میں ہی روزی کمانے کے وسائل سوچنے لگے تو وہ سو طریق سوچ لیتا ہے۔مجھے ایک عزیز نے سنایا کہ کشمیر میں جب گزشتہ ایجی ٹیشن ہوئی تو اُس وقت وہاں کے انگریز