انوارالعلوم (جلد 19) — Page 384
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۸۴ تقریر جلسه سالانه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء ریذیڈنٹ مسٹر ویکفیلڈ کو شکایت پہنچی کہ ایک کشمیری پنڈت لوگوں سے بڑی کثرت کے ساتھ رشوت لیتا ہے۔اُس نے اُس کشمیری پنڈت کو بلایا اور اُسے ایک دفتر میں لگا دیا۔چند دنوں کے بعد اُس کے متعلق دریافت کیا گیا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ خوب رشوت لیتا ہے اس پر اُسے دوسرے دفتر میں تبدیل کر دیا گیا مگر پھر بھی رشوت لیتا چلا گیا۔آخر اسی طرح یکے بعد دیگرے اُسے تمام دفتروں میں پھرایا گیا مگر جہاں بھی جاتا اُس کے متعلق یہی رپورٹ آتی کہ وہ خوب رشوت لیتا ہے۔آخر تنگ آ کر مسٹر ویکفیلڈ نے اسے دریائے جہلم پر اسلام آباد کے موڑ کے قریب بٹھا دیا اور اُسے کہا گیا کہ تمہاری سوائے اِس کے اور کوئی ڈیوٹی نہیں کہ تم صبح سے شام تک دریا کی لہریں گنتے رہا کرو۔اس نے سمجھا یہ کام تو ایسا ہے جس میں وہ کسی سے رشوت نہیں لے سکتا۔مگر چند دنوں کے بعد جب اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو لوگوں نے بتایا کہ اس نے تو غضب کر دیا۔اس نے تو اتنی رشوت لی ہے جس کی کوئی حد ہی نہیں۔جو لوگ کشمیر گئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کشمیری کشتیوں کے ذریعہ سبزی ترکاری سرینگر میں بیچنے کیلئے لے جایا کرتے ہیں وہ چونکہ لہریں گننے کیلئے بیٹھا ہوتا تھا جب بھی کسی کشتی نے آنا وہ فورا کشتی والے کو آواز دیتا کہ ٹھہر جاؤ تمہیں آگے آنے کی اجازت نہیں میں سرکاری کام کر رہا ہوں اگر تم آگے بڑھے تو میں لہریں ٹھیک طور پر نہیں گن سکوں گا۔آخر اس بے چارے نے کچھ رشوت پیش کرنی اور پھر اسے آگے آنے کی اجازت ملنی۔اس طرح وہ ہر کشتی والے کو ٹھہرا کر اُس سے کچھ نہ کچھ رقم لے لیتا۔کسی سے چار آنے کسی سے آٹھ آنے اور کسی سے رو پیدا اور شام کو جب واپس آتا تو اس کی جیب میں کافی روپیہ ہوتا۔غرض جب انسان بُری بات سوچنے لگے تو بھی سو راستہ نکال لیتا ہے اور اچھی بات سوچنے لگے تو بھی سو راستہ نکال لیتا ہے۔یہ خیال کر لینا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو یہ تعلیم دی ہے کہ اپنی نسل کو محدود کرنے کی کوشش نہ کرو اور دوسری طرف اس نے اپنے رزق کو محدود کر دیا ہے ایک ایسی بات ہے جسے کوئی مومن تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہو سکتا۔اگر قرآن کریم خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو یہ ناممکن امر ہے اور اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں تو ہمارے لئے گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں۔اگر ہمارا خدا، ہما را قرآن اور ہمارے