انوارالعلوم (جلد 19) — Page 15
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۵ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر يَقُولُ أَهْلَعْتُ مَا لَا تُبَدًا أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَةَ احد کے کہ یہ کس طرح کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں ڈھیر مال خرچ کیا ہے کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا اس نے اگر مال خرچ کیا ہے اور مہمان نوازی کی ہے تو اپنے مفاد کے پیش نظر اور سیاسی اغراض کے ماتحت اس کو کیا حق ہے کہ ہمارے سامنے کہے کہ میں نے اتنا مال تقسیم کیا ہے اگر اس نے مال تقسیم کیا تو کیا کسی پر احسان کیا ہے؟ ہر گز نہیں۔اگر اس نے احسان کیا ہے تو اپنے اوپر نہ کہ کسی دوسرے کے اوپر جیسے ہمارے ملک میں اگر کوئی شخص کشمیر کی سیر کا ارادہ کرے اور اسے کوئی کشمیری مل جائے تو واقفیت پیدا کرنے کے لیے کہہ دے گا آئیے بھائی صاحب یا اگر افغانستان جارہا ہو اور کوئی پٹھان مل جائے تو کہے گا آئیے خان صاحب ! لیکن اگر اس کا کشمیر یا افغانستان جانے کا ارادہ نہ ہو تو کشمیری یا پٹھان کا واقف بھی نہ بنے گا لیکن جب اسے ضرورت در پیش ہوگی تو وہ بھائی صاحب اور خان صاحب کہتا پھرے گا تا کہ اُسے سفر میں سہولت حاصل ہو اور ہمارے ملک میں تو سفر کی تکلیفیں بھی نہیں ہیں ریل کا سفر ہوتا ہے اور جگہ جگہ ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہیں اگر کسی سے واقفیت نہ بھی ہو تو بھی سفر آسانی کے ساتھ طے ہو سکتا ہے مگر کوئی مجبوری نہ ہونے کی صورت میں بھی جب کوئی کشمیر وغیرہ سیر کے لئے جاتا ہے تو وہ کوشش کرتا ہے کہ وہاں کے کسی آدمی سے واقفیت نکل آئے بلکہ یہاں تک کہ بعض لوگ تو یہاں سے کسی دوست کے ذریعہ چٹھیاں لے جاتے ہیں تا کہ منزلِ مقصود پر پہنچ کر کوئی تکلیف نہ ہو پس جہاں ان حالات میں کہ ہمارے ہاں سفر کرنے میں دشواریاں بھی نہیں ہیں یہ ضرورت پیش آ جاتی ہے کہ کسی کے ساتھ واقفیت پیدا کی جائے تو عرب کے لوگ جن کے نہ مکان تھے اور نہ ان کے پاس سامانِ خورونوش ہوتا تھا ان کو تو بدرجہ اولیٰ یہ ضرورت پیش آنی چاہئے تھی۔ان کو تو پانی بھی آسانی کے ساتھ میسر نہ آتا تھا اور دور دور سے جا کر پانی لانا پڑتا تھا یہ حالات تھے جن کی وجہ سے وہ قدرتی طور پر مجبور تھے اس بات کے لئے کہ وہ مہمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور یہ ایک قومی لین دین تھا۔آج الف۔ب کے ہاں مہمان ہوتا تھا تو کل ب۔الف کے ہاں اس لئے اگر ب الف کی مہمان نوازی میں پس و پیش کرتا تو خودا سے بھی تکلیف ہوتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَقُولُ أَهْلَكْتُ ما لا تبدا وہ کہتا ہے میں نے ڈھیروں ڈھیر مال خرچ کیا ہے