انوارالعلوم (جلد 19) — Page 340
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۴۰ الفضل کے اداریہ جات کر لیتی جو اس قد را ہمیت رکھتے ہیں کہ اُنہیں اس گفت و شنید میں شامل کیا جانا چاہئے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ میں مرد ولا سا را بائی کے ذریعہ سے کوئی معاہدہ کرانے کی احمد یہ جماعت نے کوشش کی ہے۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ نہ مس سارا بائی کوئی سیاسی اختیار رکھتی ہے نہ جماعت احمد یہ کوئی سیاسی اقتدار رکھتی ہے ۔ مس سارا بائی مجھے ملی تھیں اور ان کے ساتھ مسٹر پنجا جی ڈپٹی ہائی کمشنر بھی تھے۔ اُس وقت اُنہوں نے بعض مظالم کا ذکر کیا تھا جو اُن کے نزدیک مغربی پنجاب میں ہندوؤں اور سکھوں پر ہو رہے تھے اور میں نے اُن سے کہا تھا کہ آپ اپنی حکومت کی فکر کریں ۔ مشرقی پنجاب میں رہنے والے مسلمان انڈین یونین کی رعایا ہیں وہ ان کی فکر تو کرتی نہیں اور مغربی پنجاب کے رہنے والے لوگوں کی جو پاکستان کی رعایا ہیں فکر کر رہی ہے۔ اس کے بعد مقدس مقامات کا ذا مات کا ذکر شروع ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ آپ کی حکومت ننکانہ وغیرہ کے متعلق تو مطالبات کرتی ہے وہ احمدیوں کو قادیان میں حق کیوں نہیں دیتی حالانکہ مطالبہ انصاف پر مبنی ہونا چاہئے اور دونوں فریق سے یکساں سلوک ہونا چاہئے ۔ شاید میری پہلی بات سے متاثر ہو کر مس سارا بائی نے اس کے جواب میں کہا کہ ننکانہ کے سوال کو جانے دیں پاکستان کچھ کرے، انڈین یونین قادیان میں احمدیوں کو آباد کرائے گی ۔ مس سارا بائی کی ملاقات غیر رسمی تھی چنانچہ ان کے لاہور سے جانے کے بعد ان کی طرف سے کوئی اطلاع ہمیں نہیں ملی اور نہ ہم امید وار تھے کہ وہ کوئی اطلاع ہمیں دیں گی کیونکہ نہ وہ انڈین یونین کی نمائندہ تھیں اور نہ کسی قسم کے فیصلہ کا ان کو اختیا ر تھا مگر اس گفتگو سے ظاہر ہے کہ سمجھوتہ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوا بلکہ مس سبارا بائی نے خود کہا کہ یہ سوال جانے دیں کہ پاکستان کی حکومت سکھوں اور ہندوؤں کے مقدس مقامات سے کیا سلوک کرے گی ۔ انڈین یونین ہر حال اپنے علاقہ کے لوگوں سے انصاف کیا سلوک کرے گی۔ انڈین یونین ہرحال مقامات سے کیا سلوک کرے کیا۔ انڈین یومین ہر جا کا سلوک کرے گی اور قادیان میں احمدی بسائے گی ۔ یہ کہنا غیر مناسب نہ ہوگا کہ مس سارا بائی گی ۔ یہ غیرم نے قادیان جا کر اس قسم کی کوشش کی بھی تھی گو وہ میری ملاقات سے پہلے کی بات ہے۔ ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جماعت احمد یہ نہ حکومتِ پاکستان ہے نہ وہ پاکستان کی اکثریت ہے کہ کسی سے پاکستان کی کوئی چیز دلوانے کا وہ وعدہ کر سکے اور جاننے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ اُس محکمہ سے جو یہ کام کر رہا ہے سر ظفر اللہ سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں اس کام سے تعلق رکھنے