انوارالعلوم (جلد 19) — Page 294
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۹۴ الفضل کے اداریہ جات فخر کر سکتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر اور ایام ابتلاء بھی ایسے دیکھے کہ جن کی مثال دنیا کے کسی اور نبی کی زندگی میں نہیں پائی جاتی۔اور ان ایام میں وہ اعلیٰ درجہ کا نمونہ صبر، برداشت اور استقلال کا دکھایا کہ جس کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔اور اس نے ایک غالب اور فاتح کے ایام بھی دیکھے اور عفو اور رحم اور انصاف اور درگز راور شفقت اور ہمدردی اور ایسی تنظیم کا جس کا نیک اثر بڑوں اور چھوٹوں سب پر پڑتا ہے ایسا شاندار نظارہ دکھایا کہ اس کی مثال بھی دنیا کی تاریخ میں کسی اور جگہ نہیں ملتی۔ہمارا خزانہ ہمارے گھر سے نکلنا چاہئے اور ہمیں کبھی یہ موقع نہیں دینا چاہئے کہ ہمارے نبی کا ورثہ دوسرے لوگ دنیا کے سامنے پیش کریں ہم اور صرف ہم اس بات کے حقدار ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیا اور کہا وہ سب سے پہلے ہماری زبانوں اور ہمارے ذہنوں سے دنیا کے سامنے آئے۔کہا جا سکتا ہے کہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے یہ باتیں ہمارے آدمیوں نے بھی پیش کی ہیں۔یہ بالکل درست ہے راجہ غضنفر علی صاحب نے جو کوشش کی ہے اس کے مقابلہ میں ہندوستان یونین کا کوئی وزیر اپنی خدمات پیش نہیں کر سکتا۔راجہ غضنفر علی صاحب ۳۰ ہزار تحسین اور آفرین کے مستحق ہیں۔ادھر مسٹر گاندھی نے بھی بہت کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے اور ان کے اثر اور ان کے سمجھانے سے مسٹر نہر واور دوسرے ہندو لیڈروں نے بھی وقتاً فوقتاً بعض اچھے خیالات کا اظہار کیا ہے لیکن راجہ غضنفر علی صاحب آخر راجہ غضنفر علی صاحب ہیں اور مسٹر گاندھی اور پنڈت نہرو آخرمسٹر گاندھی اور پنڈت نہرو ہی ہیں۔بڑے سے بڑے فرد کی آواز قوم کی آواز کا قائم مقام نہیں ہو سکتی۔ہمارا فرض تھا کہ گزشتہ ایام میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس کر کے ان خیالات کو اپنی قوم کی طرف سے پیش کرتے۔راجہ غضنفر علی صاحب کے خیالات کو ہندوستان یونین کے لوگ یہ کہ کر نظر انداز کر سکتے تھے کہ ایک شخص تھا جس کے دل میں اچھے خیالات پیدا ہوئے مگر اس کی قوم نے ان خیالات کو اپنایا نہیں اور یہی بات مسٹر گاندھی کے متعلق بھی کہی جاسکتی تھی۔ادھر راجہ غضنفر علی صاحب کے خیالات کے متعلق کئی دفعہ ہمارے اخبارات نے مخالفانہ تنقید کی ہے اُدھر مسٹر گاندھی اور پنڈت نہرو کے خیالات کے خلاف ہندوستان کے اخبارات نے تنقید کی ہے۔پس انفرادی خیالات کا اظہار اور چیز ہے اور قومی طور پر ایک بات کہنا اور چیز ہے۔ہمارے نزدیک اب بھی موقع ہے