انوارالعلوم (جلد 19) — Page 293
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۹۳ الفضل کے اداریہ جات مذکورہ بالا پالیسی کی لفظ بلفظ پیروی کریں“۔اس ریزولیوشن کے الفاظ میں تھوڑی بہت تبدیلی کی گنجائش تو موجود ہے جیسا کہ ہم اپنے دوسرے آرٹیکل میں بیان کریں گے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس ریزولیوشن میں نہایت ہی اچھے خیالات کا اظہار کیا گیا ہے اور پاکستان کی حکومت کو فوراً ان خیالات کی تائید کرنی چاہئے یہ سوال کہ ہندوستان کی حکومت نے اب تک اس پر عمل کیا ہے یا نہیں یا پاکستان کی حکومت نے اب تک اس پر عمل کیا ہے یا نہیں ایک ثانوی حیثیت رکھتا ہے ہم ماضی کو بعض حالات میں بھول نہیں سکتے۔ہم بعض حالات میں ماضی کو بھولنا نہیں چاہتے۔ہم بعض حالات میں ماضی کو بھول جانا بے غیرتی سمجھتے ہیں۔یہ باتیں ہمارے مد نظر ہیں اور ہر ایک عقلمند کو مدنظر رہنی چاہئیں لیکن بعض ذمہ داریاں متوازی طور پر ادا کی جاسکتی ہیں۔ہمیں ماضی کے ان حصوں کو یا در کھتے ہوئے جن کے بداثرات کا ازالہ کرنا ہمارے ذمہ فرض ہے مستقبل کے لئے کسی راستہ کے کھولنے سے دریغ نہیں ہونا چاہئے۔سیاست دان اور مقالہ نویس مستقبل قریب میں اور مؤرخ مستقبل بعید میں ان واقعات پر بخشیں کرتے چلے جائیں گے جو گزشتہ مہینوں میں ہندوستان میں پیش آئے ہیں اس بارہ میں نہ ہم اپنا حق چھوڑنا چاہتے ہیں۔نہ انڈین یونین کے لوگوں سے ان کا حق چھڑوانا چاہتے ہیں لیکن اس حق کو قائم رکھتے ہوئے بھی ہم آئندہ کے متعلق کوئی مناسب سمجھوتہ کر سکتے ہیں اور ہمیں ایسا ضرور کرنا چاہئے۔ہمارے نزدیک چاہئے یہی تھا کہ پاکستان کی حکومت پہلے اس سوال کو اُٹھاتی کیونکہ بہت سی باتیں جو اس ریزولیوشن میں بیان کی گئی ہیں وہ اسلامی اصول کے مطابق ہیں اور اسلام کی پیش کردہ ہیں۔امن اور انصاف کو قائم کرنا سب سے پہلا فرض اسلامی حکومتوں کا ہے۔اسلام ہی وہ مذہب ہے جو امن کے قیام کے لئے سنہری قواعد پیش کرتا ہے اور اسلام کا لانے والا مقدس وجو د ہی وہ ہے جس نے ان سنہری قواعد پر خود عمل کر کے دکھایا ہے اور وہی ایسا کر بھی سکتا تھا کیونکہ دنیا میں ایک ہی شخص گزرا ہے جو نبوت اور کامل اقتدار والی حکومت پر ایک ہی وقت میں فائز رہا ہے۔بنی اسرائیل کے نبی موسیٰ اور عیسی ، ایران کے نبی زرتشت ، ہندوستان کے نبی کرشن اور رام چندر جی اور چین کے نبی کنفیوسش کو یہ مواقع میسر نہیں آئے۔ہم اس بات پر