انوارالعلوم (جلد 19) — Page 292
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۹۲ الفضل کے اداریہ جات نسبت یہ نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہئے کہ گویا وہ نا خواندہ مہمان ہیں اور صرف ایک مہربانی کے طور پر ان کی موجودگی کو برداشت کیا جا رہا ہے۔ایسے لوگ وہی اختیارات رکھیں گے اور ویسی ہی ان پر ذمہ داریاں ہوں گی جیسی کہ دوسرے شہریوں پر ، جہاں پر وہ کیمپوں میں رہ رہے ہوں ان سے یہ امید کی جائے گی کہ وہ اپنے ساتھی مہاجرین سے مل کر کوئی نہ کوئی ملکی خدمت کریں اور کیمپوں کے اچھے انتظام کی خاطر جو قوانین بنائے جائیں ، ان کی پابندی کریں۔وہ لوگ جو کیمپوں کی نگرانی کرنے کے اہل سمجھے جائیں اُن کی نگرانی کے ماتحت کیمپوں کے رہنے والوں کو حفظانِ صحت اور دوسری خدمات کو بخوشی بجالانا چاہئے اور جولوگ کیمپوں پر نگران مقرر کئے گئے ہوں ان کو چاہئے کہ ایسے کاموں میں خود بھی شریک ہوا کریں۔پناہ گزینوں کو ایسے کام سپر د کئے جانے چاہئیں جن سے نفع حاصل ہو اور اُس نفع میں ان لوگوں کو بھی شریک کیا جانا چاہئے۔مغربی پنجاب کے پناہ گزینوں کو عام حالات میں مشرقی پنجاب میں ہی بسانا چاہئے اور پاکستان کے دوسرے حصوں کے پناہ گزینوں کو ایسے علاقوں میں بسانا چاہئے جن کا فیصلہ مرکزی حکومت صوبجاتی حکومتوں کے ساتھ مل کر کرے۔اس بات کا خیال رکھا جانا چاہئے کہ خاص علاقہ کے لوگ جہاں تک ہو سکے اکٹھے ہی بسائے جایا کریں۔اس کام میں صوبجاتی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ مرکزی حکومت کے ساتھ پورا تعاون کریں اور پناہ گزینوں کی زیادہ سے زیادہ تعدا د کو جگہ دینے کیلئے رستہ نکالیں۔کوئی گھر جس کو کسی مسلمان نے اپنی مرضی سے نہیں چھوڑا اس میں کوئی پناہ گزیں نہ بسایا جائے۔پناہ گزینوں کی نقل و حرکت جس کا پہلے ہی سے ریلوں کے ذریعہ سے یا لاریوں کے ذریعہ سے یا اور دوسرے ذرائع سے انتظام کیا جا رہا ہے آئندہ اوپر کے بتائے ہوئے قانون کے ماتحت ہونی چاہئے اور کسی شخص کو اپنی جگہ سے نہیں نکالنا چاہئے جب تک کہ وہ ایسا کرنے کی خود خواہش نہ رکھتا ہو۔یہی قانون ان ریاستوں کے متعلق بھی جاری ہونا چاہئے جو انڈین یونین میں شامل ہوئی ہیں اور جن میں سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد یا تو نکل گئی ہے یا نکال دی گئی ہے۔آل انڈیا کانگرس کمیٹی یقین رکھتی ہے کہ ہندوستان یونین کی مرکزی حکومت ، مشرقی پنجاب کی حکومت اور ان ریاستوں کی حکومتیں جن پر اس نقل مکانی کا اثر پڑا ہے، اوپر کی بیان کردہ پالیسی کو فوراً جاری کریں گی اور اپنے تمام افسروں کو حکم دیں گی کہ وہ