انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 291

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۹۱ الفضل کے اداریہ جات کانگرس کے ان بنیادی اصولوں کو جو ابتداء ہی سے کانگرس نے اختیار کر رکھے ہیں ، سخت نقصان پہنچاتی ہے، نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔آل انڈیا کانگرس کمیٹی کی رائے میں یہ تبادلۂ آبادی روکا جانا چاہئے اور ہندوستان یونین میں بھی اور پاکستان میں بھی ایسے حالات پیدا کئے جانے چاہئیں کہ اقلیتیں امن اور حفاظت کے ساتھ رہ سکیں۔اگر اس قسم کے حالات پیدا کر دیئے جائیں تو ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ کی طرف منتقل ہونے کی خواہش آپ ہی آپ سرد پڑ جائے گی۔کمیٹی کی رائے میں پاکستان کے ہندو اور سکھ باشندوں کو مجبور کرنا کہ وہ اپنے گھر چھوڑ دیں اور ہندوستان یونین کی طرف چلے جائیں اور ہندوستان یونین کے مسلمانوں کو مجبور کرنا کہ وہ پاکستان کی طرف ہجرت کر جائیں ایک نا واجب فعل ہے۔کمیٹی یہ محسوس کرتی ہے کہ جو کچھ ہو چکا ہے اس کا پورا ازالہ کرنا ناممکن ہے۔مگر با وجود اس کے وہ فیصلہ کرتی ہے کہ اس بارہ میں ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے کہ دونوں ڈومینین کے مہاجرین آخر کا راپنے اپنے گھروں میں جا کر آباد ہو جائیں اور اپنے پیشوں اور فنوں کو ان علاقوں میں جا کرامن اور حفاظت کے حالات میں اختیار کریں۔وہ لوگ جنہوں نے اپنے گھر ابھی تک نہیں چھوڑے اُن کو وہیں رہنے پر آمادہ کرنا چاہئے سوائے اس کے کہ وہ اپنی ذاتی خواہش کے ساتھ نقل مکانی پر مصر ہوں اگر ایسا ہو تو ان کے سفر کو آسان بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہئے۔دونوں حکومتوں کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ ان اصول پر با ہمی گفت و شنید شروع کریں اور ایسے حالات پیدا کریں جن کے ماتحت دونوں طرف کے مہاجر اپنے وطنوں میں پورے اطمینان کے ساتھ پھر جا کر آباد ہوسکیں۔بہر حال ہندوستان یو نین کو ہماری مقررہ پالیسی پر عمل کرنا چاہئے اور ان اقلیتوں کی پوری حفاظت کرنی چاہئے جو ابھی تک ہندوستان یونین میں بس رہی ہیں اور انہیں جبر کے ساتھ اپنے گھروں سے نہیں نکالنا چاہئے اور نہ ایسے حالات پیدا کرنے چاہئیں کہ جن کی وجہ سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوں۔کانگرس کی چونکہ یہ فیصل شدہ پالیسی ہے اس لئے وہ لوگ جو انڈین یونین کو چھوڑنے کا ارادہ کر رہے ہیں ان کی ہر طرح خبر گیری کرنی چاہئے اور یونین کے باشندوں کو ان کا جب تک کہ وہ لوگ ہندوستان میں بستے ہیں خیال رکھنا چاہئے ایسے لوگوں کی