انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 285

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۸۵ الفضل کے اداریہ جات متعلق ملک سے رائے عامہ لینے کی ضرورت ہے تو بعض باتیں ایسی بھی تو ہیں جن کو ملک سوچ و ملک چکا ہے اور جو دیر سے زیر بحث چلی آتی رہی ہیں کیوں نہ ان کے متعلق فوری طور پر کوئی تدابیر اختیار کی جائیں مثلاً یہی لے لو کہ گو پاکستان ایک جمہوری اصول پر قائم شدہ حکومت ہے لیکن بہر حال وہ مسلمانوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے تو کیوں نہ فوری طور پر ان امور کے متعلق کوئی قانون جاری کر دیا جائے جن میں کوئی دورائیں ہو ہی نہیں سکتیں ۔ مثلاً کیوں نہ فوری طور پر یہ قانون پاس کر دیا جائے کہ ورثہ کے متعلق اسلامی قانون مسلمانوں میں جاری ہو، اسی طرح طلاق اور خلع کے متعلق اسلامی قانون جاری ہو۔ اسی طرح شراب کا پینا یا بیچنا مسلمان کے لئے منع ہو یہ قانون بہر حال مسلمان کے لئے ہوتے ۔ اس پر ہندو یا عیسائی کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ ایک ہندو کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان شراب نہیں پیتا یا اپنی جائداد کا حصہ اپنی بیٹی کو کیوں دیتا ہے یا ایک مرد کو طلاق کا اور عورت کو خلع کا خاص شرائط کے ماتحت حق حاصل ہے اسی طرح یہ کوئی اختلاقی مسئلہ نہیں تھا کہ ملک کے آزاد ہوتے ہی ملک میں اسلحہ کو قیود سے آزاد کیا جاتا ۔ لائسنس کے بغیر تو کسی مہذب ملک میں بھی اسلحہ کی اجازت نہیں لیکن ان مہذب ممالک میں لائسنسوں پر ایسی قیود نہیں لگائی گئیں جیسی کہ اس ملک میں ۔ حکومت کو فوراً ہی لائسنس پر سے قیود ہٹانی چاہئے تھیں اور اس قسم کا قانون پاس کرنا چاہئے تھا کہ سوائے بد معاشوں اور فسادیوں کے ہر شریف شہری ہتھیار رکھ سکے اور اسے ہتھیار چلانا آتا ہو ۔ اسی طرح سالہا سال سے کانگرس بھی اور مسلم لیگ بھی اس بات پر لڑتی چلی آئی تھیں کہ جلسہ اور تقریرا اور تحریر کی عام آزادی ملنی چاہئے ۔ اس بات کے متعلق بھی کسی نئے غور کی ضرورت نہیں تھی یہ تو ایک انسانی حق ہے جس کا مطالبہ دنیا کی ہر قوم کرتی چلی آئی ہے۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ فوراً ان امور کے متعلق احکام نافذ کر دیتی اور ملک کے اندر یہ احساس پیدا کر دیتی کہ اب وہ آزاد ہیں پہلے کی طرح غلام نہیں ہیں ۔ اسی طرح ایگزیکٹو اور جوڈیشل کو جدا کرنے کا مسئلہ ہے ۔ سالہا سال سے اس پر بحثیں ہوتی چلی آئی ہیں ۔ کانگرس نے بھی اس کی تائید کی ہے ، مسلم لیگ نے بھی اس کی تائید کی ہے، اسلامی قانون کے مطابق بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ایگزیکٹو کا محکمہ الگ ہونا چاہئے اور قضاء کا محکمہ الگ ہونا چاہئے ۔ جب تک ان دونوں محکموں کو