انوارالعلوم (جلد 19) — Page 267
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۶۷ الفضل کے اداریہ جات سے سکھ بھی حملے کرنے لگ جائیں تو صرف اس مصالحہ کی سی رہ جائے گی جو شامی کباب ( سینڈوچ ) کے پیٹ میں بھرا ہوا ہوتا ہے اور ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ ایسی خطرناک صورت ہوگی کہ اس سے بچنا نہایت اور نہایت ہی مشکل ہو گا۔تقسیم پنجاب سے پہلے کی سوچی ہوئی یہ سکیمیں ہیں اور شطرنج کی سی چال کے ساتھ ہوشیاری کے ساتھ اس سکیم کو پورا کیا جا رہا ہے۔ہم نے وقت پر اپنے اہل وطن کو ہوشیار کر دیا ہے زمانہ بتا دے گا کہ جو بات آج عقل کی آنکھوں سے نظر آ رہی ہے، کچھ عرصہ کے بعد واقعات بھی اس کی شہادت دینے لگیں گے۔ہمارے نزدیک اس کا علاج یقیناً موجود ہے اور حکومت پاکستان اب بھی اپنی مات کو جیت میں تبدیل کر سکتی ہے۔اب بھی وہ ان منصوبوں کے بداثرات سے محفوظ رہ سکتی ہے کیا کسی کے کان ہیں کہ وہ سنے، کسی کی آنکھیں ہیں کہ وہ دیکھے، کوئی دل گردے والا انسان ہے جو ہمت کر کے اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے کھڑا ہو جائے؟ ( الفضل لاہور ۱۴/ نومبر ۱۹۴۷ء )