انوارالعلوم (جلد 19) — Page 257
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۵۷ الفضل کے اداریہ جات مسلمانوں کی آزادی اسے مطلوب ہے۔ وہ کسی صورت میں بھی پسند نہیں کر سکتا کہ کشمیر کا مسلمان ڈوگروں کا غلام بنا کر رکھا جائے یا سکھوں کی کر پانوں کا نشانہ بنتا ر ہے۔ جب یہ ایک حقیقت ہے تو اس حقیقت کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بھی تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں اور جنگ سے اُتر کر جتنی تدابیر اس کام کے لئے استعمال کی جاسکتی ہیں وہ استعمال کر جانی چاہئیں ۔ مثلاً اخباری پرو پیگنڈا حکومت پاکستان کی نگرانی میں آ جانا چاہئے ۔ سنسر نہ ہو مگر حکومت پاکستان کا پریس نمائندہ اخبارات کو خفیہ طور پر ایسی ہدایتیں دیتا ر ہے کہ کسی قسم کی خبریں شائع کرنا تحریک کشمیر کے مخالف ہوگا اور کسی قسم کی خبریں شائع کرنا تحریک کشمیر کے مخالف نہ ہوگا ۔ یورپ اور امریکہ کا پرلیس بالکل آزاد سمجھا جاتا ہے لیکن وہاں بھی امور خارجہ کا ایک نمائندہ پریس کے ساتھ لگا ہوا ہوتا ہے اور وہ ہر اہم موقع پر پریس کو توجہ دلاتا رہتا ہے کہ اس مسئلہ کے کونسے پہلوؤں کی اشاعت آپ کے ملک کے مفاد کے لئے مضر ہو گی اور کونسے پہلوؤں کی اشاعت آپ کے ملک کے مفاد کیلئے مفید ہو گی ۔ پریس بے شک آزاد ہوتا ہے مگر وہ اپنے ملک کا دشمن تو نہیں ہوتا۔ امور خارجہ کے نمائندہ کی طرف سے جب ان کے سامنے حقیقت کو واضح کر دیا جاتا ہے تو نوے فیصدی پرلیس وہی طریق اختیار کرتا ہے جس کی سفارش امور خارجہ نے کی ہوتی ہے ۔ دس فیصدی پریس جو اس کے خلاف کرتا ہے اس کی آواز نوے فیصدی کی آواز کے نیچے دب جاتی ہے اور مجموعی طور پر پبلک گمراہ نہیں ہوتی اور دس فیصدی پریس کی آواز کو دوسرے ممالک ملک کی آواز نہیں سمجھتے اس لئے اس کی آواز سے بھی نقصان نہیں پہنچتا۔ یہی طریقہ یہاں بھی اختیار کرنا ضروری تھا۔ چاہئے تھا کہ پاکستان حکومت کے محکمہ امور خارجہ کا ایک افسر فوراً مقرر کر دیا جاتا جو پاکستان کے پریس کو براہِ راست یا اپنے نمائندوں کے ذریعہ ان کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا رہتا۔ اس کے نتیجہ میں لازماً پاکستان کے پریس کا اکثر حصہ اس طریق کو اختیار کر لیتا اور ایسے مضامین یا ایسی خبریں شائع نہ کرتا جن سے کشمیر کے مسلمانوں کے مفاد کو نقصان پہنچتا اور اگر کوئی حصہ اس کے مخالف بھی چلتا تو اکثر پریس کی خبریں چونکہ اس کے خلاف ہوتیں اور ان کے مضامین بھی اس کے خلاف ہوتے ، نہ ملک کی عام رائے اس سے متاثر ہوتی اور نہ دوسرے ممالک اس کی آواز سے متاثر ہو کر کوئی ایسا قدم اُٹھاتے جو کشمیر کے مسئلہ کو پیچیدہ بنا دینے والا ہوتا۔ بہر حال اس وجہ سے کہ پریس کو کوئی راہ