انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 254

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۵۴ الفضل کے اداریہ جات کے منتظر ہیں۔قدرت نے خالص مسلمانوں ، فدایانِ نبی اُمی علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ بستی یونہی اتفاقاً آباد نہیں کر ڈالی ، اُس نے اس وقت ہماری آزمائش کے لئے ہمیں چنا ہے، اس وقت پاکستان کے مسلمان سب سے بڑے میدانِ امتحان میں ہیں، اگر ہم میں ذرا بھی اسلامی حمیت باقی ہے، اگر ہماری رگوں میں زندگی کی رمق موجود ہے، اگر اس راکھ کے ڈھیر میں ایک بھی جلتی ہوئی چنگاری بچی ہوئی ہے تو یقیناً ہم ایک بار پھر وہی شعلہ اُٹھا سکتے ہیں جس میں بھسم ہونے کے لئے طاغوتی عقل نے اتنا ایندھن اکٹھا کر دیا ہے کہ جتنا اس نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔شیطان نے اپنی آخری بازی لگا رکھی ہے اگر ہم جیت گئے ، کاش ہم جیت جائیں تو پھر قیامت تک وہ سر نہیں اُٹھا سکے گا۔دریودھن نے فریب کا پانسا پھینک کر بے شک ہمارا سب کچھ ہتھیا لیا ہوا ہے، دنیاوی لحاظ سے ہم بے شک کنگال ہو چکے ہیں، بے شک دشمن نے ہمیں اپنی دانست میں ہلاک کر کے غار میں پھینک دیا ہے لیکن یہ ہم سے کیوں ہوا؟ اس لئے کہ ہم نے اپنے اٹل اصولوں کو چھوڑ کر اس کے فنا ہونے والے اصولوں کو مان لیا۔ہم اپنے سیدھے راستے سے بھٹک کر اُس کی پیچ در پیچ پگڈنڈیوں پر چل پڑے جہاں چپہ چپہ پر اس نے اپنے تیر انداز متعین کر رکھے ہیں۔جن کی بوچھاڑ نے ہماری روحوں تک کو مجروح کر دیا ہے لیکن با وجود اس کے کہ ہم کو ہمارے املاک سے محروم کر کے بن باس کی طرف دھکیل دیا گیا ہے پھر بھی ہمارے لئے نا امید ہونے اور حوصلہ ہارنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ ہماری کمک آسمان سے آتی ہے زمین سے نہیں۔اس کمک نے آڑے وقت کبھی کوتا ہی نہیں کی۔وہی جس نے کور کشتر کے میدان میں پانڈو کے بیٹوں کی کرشن کو بھیج کر مدد کی تھی ، وہی جس نے ابراہیم کے لئے نمرودی آتش کدے کو لہلہاتے ہوئے پھولوں کا دامن بنا دیا تھا ، وہی جس نے نوح کی کشتی کو ساحل پر لگایا اور جس نے موسیٰ کے لئے سمندر کو دوٹکڑے کر دیے تھے۔جس نے ہمیں خود تا تاری طوفان سے بال بال بچا کر نکال لیا تھا وہ آج بھی ہمیشہ کی طرح زندہ ہے، اُس کا آخری پیغام زندہ ہے، اُس پیغام کا لانے والا خاتم النبیین کہلانے والا زندہ ہے، وہ منبع قوت جو بھی ختم نہیں ہوتا ہم کو مفت دیا گیا تھا لیکن افسوس کہ ہم نے دھو کے میں آ کر اپنی زندگی کے تار اس سے منقطع کر لئے۔ہمارے فانوس جس نور سے