انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 236

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۳۶ الفضل کے اداریہ جات پٹھے اس بات کے شاہد تھے کہ پاکستان پر حملہ کرنا کسی کے لئے آسان بات نہ ہو گی۔ان لوگوں کی آنکھوں سے ظاہر تھا کہ وہ پاکستان کی فوج کا حصہ ہونے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور وقت آنے پر پاکستان کی عظمت کے قیام کے لئے ہر قربانی کرنے کیلئے تیار ہوں گے۔ایک بڑا فائدہ اس مظاہرہ کا یہ بھی ہوا کہ لوگوں میں جو بے چینی پیدا تھی کہ پاکستان کی سرحدیں غیر محفوظ ہیں، اس کا ایک حد تک ازالہ ہو گیا اور پاکستان کے باشندوں کو معلوم ہو گیا کہ ان کے گھروں کی حفاظت کے لئے ان کے محافظ سپاہی سرحد پر موجود ہیں۔اس میں کوئی بہ نہیں کہ پاکستانی سپاہی سکھ سپاہی کی طرح موٹے نہیں تھے ان کا عام قد بھی اتنا لمبا نہیں تھا جتنا کہ عام سکھ سپاہی کا ہوتا ہے لیکن ان کا جسم بہت گتھا ہوا اور ورزشی تھا اور ہر دیکھنے والا یہ محسوس کرتا تھا کہ استقلال کے ساتھ لمبا کام کرنے کی اہلیت مسلمان سپاہی میں سکھ سپاہی سے زیادہ پائی جاتی ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ سکھ سپاہی کی ساری بہادری اس کی وحشت اور درندگی پر مبنی ہے اور اس وحشت اور درندگی کا کمال بھی اس کی اندرونی طاقتوں سے نہیں پیدا ہوتا بلکہ شراب کے استعمال سے اس کے اس جو ہر کو مدد پہنچائی جاتی ہے جو سپاہی موت کا خوف شراب کے نشہ سے دور کرنا چاہتا ہے وہ ہرگز بہادر سپاہی نہیں کہلا سکتا۔وہ انسان نہیں ایک مشین ہے جسے دوسرا ہاتھ چلاتا ہے۔مسلمان سپاہی کی بہادری اُس کا ذاتی جوہر ہے لڑائی کے وقت اس کا دماغ صاف ہوتا ہے، شراب نے اُس کے حواس پر قابو نہیں پایا ہوتا، وہ سارے نتائج کو دیکھتے ہوئے اور سارے خطرات کو جانچتے ہوئے دشمن کے مقابلہ کے لئے آگے بڑھتا ہے اور بسا اوقات اگر وہ دشمن پر غالب نہیں آ سکتا تو اپنی جان کو قربان کر کے اس کے بڑھنے کی رفتار کو سست کر دیتا ہے اور اسی طرح اپنے ملک کے لئے دفاع کی تیاری کا ایک موقع پیدا کر دیتا ہے اس وقت ساری دنیا میں مسلمان سپاہی ہی ایک ایسا سپاہی ہے جو غیر طبعی ذرائع کے استعمال کئے بغیر بہادری کا نمونہ دکھلاتا ہے۔مسلمان کے سوا ساری دنیا میں شراب کا عام رواج ہے اور حکومتیں سپاہیوں کو لڑائی کے وقت خاص طور پر شراب مہیا کر کے دیتی ہیں تا کہ موت کا ڈران کے دل سے جاتا رہے اور وہ شراب کے نشہ میں دشمن کی طرف آگے بڑھیں، انسانوں کی طرح نہیں بلکہ درندوں کی طرح۔پس ہم یقین رکھتے ہیں کہ مسلمان فوجوں کی تربیت جب بھی مکمل ہو جائے گی وہ دنیا کے