انوارالعلوم (جلد 19) — Page 230
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۳۰ الفضل کے اداریہ جات کے امن میں خلل ڈال دے گا بلکہ زیادہ تر ہتھیار یہی لوگ رکھیں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض باغیانہ ذہنیت والی انجمنیں پیدا ہو جائیں اور وہ اسلحہ کی طاقت سے ملک کی جائز حکومت کو توڑنے کی کوشش کریں۔پس یہ تجویز ملک کے لئے مضر ہے اور یقیناً ہر سمجھدار انسان کو اس کی مخالفت کرنی چاہئے۔لائسنس ضرور رہنا چاہئے گو اس سختی سے لائسنس نہیں دینے چاہئیں جس تختی سے برطانوی حکومت ہندوستانیوں کو لائسنس دیا کرتی تھی اس سے بہت زیادہ لائسنس ملنے چاہئیں۔غریب اور امیر کی کوئی تمیز نہیں ہونی چاہئے۔اس بات کی کوئی شرط نہیں ہونی چاہئے کہ جو شخص ڈپٹی کمشنر کا منہ چڑھا ہو یا افسروں کو خوشامد کرتا ہو یا پولیس کے ساتھ کام کرتا ہوصرف اُس کو لائسنس دیا جائے۔جیسے یورپ میں قاعدہ ہے عام طور پر نام رجسٹرڈ کرانے سے لائسنس مل جاتا ہے اور نام رجسٹر ڈ ہونے کی وجہ سے گورنمنٹ کو موقع حاصل رہتا ہے کہ وہ ایسے شخص کی نگرانی کر سکے اور دیکھ سکے کہ وہ ہتھیار کا نا جائز استعمال تو نہیں کرسکتا۔(۲) یہ تجویز کہ نیشنل گارڈز کی سکیم کو مسلم لیگ کی نگرانی میں منظم کیا جائے جمہوری اصول کے خلاف ہے۔جمہوری اصول کے مطابق پارلیمنٹ کے انتخابات تک پارٹیاں الگ الگ کام کرتی ہیں جب کوئی پارٹی برسراقتدار آ جاتی ہے تو اُسی دن سے وہ سارے ملک کی نمائندہ بن جاتی ہے صرف اپنی پارٹی کی نمائندہ نہیں ہوتی۔پس کوئی فوجی تنظیم کسی پارٹی کے قبضہ میں نہیں ہونی چاہئے ورنہ جمہوریت ختم ہو جائے گی اور فاسزم اور ناٹسزم شروع ہو جائے گا۔کسی حکومت کے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ اپنی سیاسی پارٹی کو فوجی تنظیم کی اجازت دے اور دوسروں کو اس سے منع کر دے اگر وہ ایسا کرے گی تو لازمی طور پر دوسری پارٹیاں مخفی طور پر اپنی تنظیم شروع کر دیں گی تا کہ وقت آنے پر وہ اپنی حفاظت کر سکیں پھر یا تو گورنمنٹ کو ایسی پارٹیوں کو دبانا پڑے گا اور اس پر بے جا رعایت اور بے جا دشمنی کا الزام لگے گا اور یا وہ دوسری پارٹیوں کے فعل پر چشم پوشی سے کام لے گی۔اس صورت میں قانون کا احترام ملک سے جاتا رہے گا اور قانون شکنی کی روح ملک میں بڑھتی جائے گی۔(۳) تیسری تجویز ہوم گارڈز کی ہے جو ایک قسم کی ملٹری ملیشیا ہوتی ہے اور صوبہ جاتی حکومتوں کے انتظام کے نیچے ہوتی ہے۔ہمارے نزدیک یہ تجویز بھی ناقص ہے۔اول تو ہوم گارڈز