انوارالعلوم (جلد 19) — Page 229
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۲۹ الفضل کے اداریہ جات جنگ سکھائے نہیں جا سکتے اور اس سے بھی زیادہ مشکل یہ ہے کہ افسر فوراً تیار کئے جاسکیں۔افسروں کی تعداد بالعموم ڈیڑھ فیصدی ہوتی ہے۔۲۷ لاکھ فوج کے لئے چھوٹے بڑے افسر ۴۰ ہزار کے قریب ہونے چاہئیں۔ہماری تو ساری فوج ہی ۳۰ ہزار ہے اگر خطرے کا موقع آیا تو کسی صورت میں بھی اس فوج کو معقول طور پر وسیع نہیں کیا جاسکتا اور اس کا علاج ضروری ہے۔یہ علاج کس طرح ہو سکتا ہے اس کے لئے یہ مختلف سکیمیں پیش کی جارہی ہیں اور پیش کی جاسکتی ہیں۔اوّل: ملک کے تمام افراد کو رائفلیں رکھنے کی کھلی اجازت دی جائے اور جہاں تک ہو سکے گورنمنٹ خود رائفلیں سستے داموں پر مہیا کرے۔دوم : نیشنل گارڈز کے طریق کو رائج کیا جائے جو مسلم لیگ کے ماتحت ہو۔سوم : ہوم گارڈز کے اصول پر نوجوانوں کو فوجی ٹریننگ دی جائے جو گورنمنٹ کی نگرانی میں ہو۔چہارم : ایک ٹیریٹوریل فورس فوجی انتظام کے ماتحت تیار کی جائے۔پنجم جبری بھرتی ملک میں جاری کی جائے اور اس کا انتظام ملٹری کے ماتحت ہو۔یہ پانچ طریق ہیں جن سے ملک کی جنگی نفری کو منظم کیا جا سکتا ہے اور وقت پڑنے پر اس سے کام لیا جا سکتا ہے۔اب ہم اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ ان پانچوں طریقوں میں سے کونسا طریقہ زیادہ بہتر اور مناسب ہوگا۔(۱) پہلا مجوزہ طریق یہ ہے کہ ملک میں کثرت سے رائفلیں رکھنے کی تحریک کی جائے اور گورنمنٹ سستے داموں لوگوں کو رائفلیں مہیا کر کے دے۔یہ طریق جس ملک میں بھی رائج ہوا ہے کامیاب نہیں ہوا اور ہمیشہ اس کے نتیجہ میں فساد اور دنگے کا رستہ کھلتا رہا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہتھیار رکھنے کا حق عام شہریوں کو حاصل ہونا چاہئے اور صرف ان لوگوں کو ہتھیار رکھنے کی اجازت نہ دینی چاہئے جو مجرمانہ حیثیت رکھتے ہیں یا نا قابلِ اعتبار ہیں اور جب یہ شرط ہو تو لا ز ما یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہتھیار کے لئے لائسنس ضروری ہے اور ہتھیار رکھنے کے متعلق کچھ نہ کچھ نگرانی کی طاقت گورنمنٹ کے ہاتھ میں ضرور ہونی چاہئے ورنہ بدمعاش اور چور طبقہ ملک