انوارالعلوم (جلد 19) — Page 218
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۱۸ الفضل کے اداریہ جات حکومتوں پر پڑتا۔اخباروں کی ہمدردی اور بڑے بڑے لیڈروں کے بیانات بھی بے شک بہت فائدہ دیتے ہیں مگر حکومتوں کے باقاعدہ احتجاج اور اخباروں کے مضامین میں بہت بڑا فرق ہے۔آخر اس میں مشکل ہی کیا ہے ہر ملک میں کچھ نہ کچھ معزز ہندوستانی موجود ہیں۔باقاعدہ سفارتیں نہ سہی غیر معمولی نمائندگی کے حقوق اسلامی ممالک میں ایک ایک معزز ہندوستانی کے سپر د کر دئیے جائیں تو سیاسی تعلقات پاکستان اور دوسری اسلامی حکومتوں میں فوراً قائم ہو سکتے ہیں۔ایسے انتظام پر شاید ہزار ڈیڑھ ہزار روپیہ ماہوار خرچ ہو گا ، اس سے زیادہ نہیں۔تیسری شکایت ہمیں یہ پہنچی ہے کہ ایسے سینیا میں ہندوستان کی آزادی کا دن منایا گیا اور ہندوستانی جھنڈے تقسیم کئے گئے اور خوشی سے ے ایبے سینیا کے لوگوں نے ہندوستانی جھنڈے لہرائے لیکن پاکستان کی آزادی کا دن نہ منایا گیا اور نہ پاکستان کے جھنڈے وہاں لہرائے گئے۔ایبے سینیا کے شاہی خاندان کا ایک حصہ مسلمان ہے اور بعض زبر دست فوجی قبائل بھی مسلمان ہیں وہ اس نظارہ کو دیکھ کر بہت مایوس ہوئے اور ایبے سـیـنـیـا کے ہندوستانی ڈاکٹر جو اتفاقاً احمدی ہے سے پوچھا کہ یہاں پاکستانی جھنڈے کیوں نہیں آئے اور پاکستان کی طرف سے ہم لوگوں کو خوشی میں شامل ہونے کا موقع کیوں نہیں دیا گیا ؟ وہ سوائے افسوس کے اور کیا کر سکتا تھا اب اُس نے پاکستان کو لکھا ہے کہ کچھ پاکستانی جھنڈے بھجوا دیئے جائیں تا کہ وہ مسلمانوں میں تقسیم کئے جائیں اور اس کے نمونہ پر وہ اپنے لئے جھنڈے بنوا لیں کیونکہ ایبے سینیا کے مسلمان چاہتے ہیں کہ وہ بھی پاکستان کی خوشی میں شامل ہوں۔ایبے سینیا کو حکومت کے لحاظ سے عیسائی ہے لیکن اس کو تین عظیم الشان حیثیتیں حاصل ہیں۔ایک یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایبے سینیا نے ہجرتِ اولی کے مسلمانوں کو پناہ دی تھی اور اُس وقت کا بادشاہ مسلمان بھی ہو گیا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس بادشاہ اور اُس کی قوم کے لئے خاص طور پر دعا فرمائی تھی آج تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط اس ملک میں محفوظ چلا آتا ہے۔دوسرے ایبے سینیا کے شاہی خاندان کا ایک حصہ مسلمان ہے۔کبھی کبھی وہ غالب آ کر اس ملک میں اسلامی حکومت بھی قائم کر دیتا ہے۔ایبے سینیا اپنے معدنی اور