انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 202

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۰۲ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ کچھ تو ہمارے پاس رہنے دو پنجاب میں اس وقت جو تباہی اور بربادی آئی ہے اس کا اندازہ نہ الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے نہ خیالات سے۔بغیر کسی اشتعال کے، بغیر کسی وجہ کے خدا کے بندوں کا قتل عام اس طرح شروع کر دیا جاتا ہے کہ حیرت ہی آتی ہے کہ خدا کے بندوں نے خدا کو کس طرح بھلا دیا ہے۔قتل تو اشتعال کے وقت بھی نا جائز ہے لیکن بلا اشتعال کے ، بغیر کسی وجہ کے قتل اور عورتوں بچوں کا قتل ایسا فعل ہے جس کو دنیا کا کوئی مذہب بھی جائز قرار نہیں دیتا، دنیا کی کوئی تہذیب بھی اسے روانہیں سمجھتی۔سیاسی لڑائی ہی سہی ،ملکی جھگڑا ہی سہی لیکن اس سیاسی لڑائی یا اس ملکی جھگڑے میں ان عورتوں اور بچوں کا کیا دخل ہے جو بے تحاشا مارے جاتے ہیں ، اُن بوڑھوں اور ضعیفوں کا کیا دخل ہے جو برسر عام قتل کئے جاتے ہیں۔ہند وسکھ مسلمان کے دشمن سہی ، مسلمان ہندو سکھوں کے دشمن سہی لیکن ایسٹرن پنجاب کے مسلمان کی جائداد پر ایک عام سکھ یا ہندو کا کیا حق ہے اور مغربی پنجاب کے سکھ یا ہندو کی جائداد پر ایک عام مسلمان کا کیا حق ہے۔مشرقی پنجاب کے مسلمان کی جائداد مشرقی پنجاب کی حکومت کی کفالت میں ہے اور مغربی پنجاب کے ہندو سکھ کی جائداد مغربی پنجاب کی حکومت کی کفالت میں ہے۔پس مشرقی پنجاب کے ہندو اور سکھ کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ مشرقی پنجاب کو چھوڑنے والے مسلمان کی جائداد کو نہ چھوئے اور مغربی پنجاب کے مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہندو اور سکھ کی جائداد کو ہرگز نہ چھوئے۔دونوں گورنمنٹیں دونوں جائدادوں کی کفیل رہیں۔اگر دونوں طرف کے باشندے پھر اپنے اپنے ملک میں آباد ہونا چاہیں تو وہ مال حکومتیں ان کے سپرد کر دیں اور اگر وہ اپنے ملک میں واپس نہ جانا چاہیں گے تو حکومتیں باہمی حساب کر کے ہر ایک کی جائداد کی قیمت مالکوں میں بانٹ دیں اگر کچھ جائدا دلا وارث ہوگی تو اس کی وارث مشرقی پنجاب میں مشرقی حکومت ہوگی اور مغربی پنجاب