انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 203

انوار العلوم جلد ۱۹ الفضل کے اداریہ جات میں پاکستان کی حکومت ہوگی۔یہی اسلامی حکم ہے اور اسی کی تصدیق عقل کرتی ہے۔ہندو اور سکھ مسلمان نہیں مگر وہ عقل کا تو دعوی کرتا ہے اور مسلمان کے دماغ میں عقل بھی ہے اور وہ ساتھ ہی مسلمان بھی ہے۔اس طرح اسے دُہری راہنمائی اور دُہری ہدایت حاصل ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس پر عمل نہیں ہو رہا۔کثرت کے ساتھ مسلمان اخبارات میں یہ خبر میں شائع ہو رہی ہیں کہ مغربی پنجاب میں ہندوؤں اور سکھوں کی جائداد کو نہ لوٹا جائے لیکن بعض لوگ ٹوٹ رہے ہیں اور مشرقی پنجاب میں تو یہ بات اتنی زیادہ ہے کہ اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن مشرقی پنجاب کا یہ ظلم ہمیں اپنے فرائض سے بری الذمہ نہیں کر دیتا۔ہم دنیا کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے ہما را لا کھ ٹوٹا تھا ہم نے ان کا دس ہزار ٹوٹا ہے کیونکہ دنیا کا ہر معقول انسان ہمیں کہے گا کہ کیا تمہارا لاکھ لوٹنے والا انسان وہی تھا جس کا تم نے دس ہزار روپیہ لیا تھا ؟ اس کا ہم کوئی جواب نہیں دے سکتے کیونکہ واقعہ میں وہ وہ آدمی نہیں تھا۔اس پر مزید غضب یہ ہے کہ مغربی پنجاب میں اکثر لُوٹنے والے مشرقی پنجاب سے آئے ہوئے نہیں مغربی پنجاب کے لوگ ہیں اور مشرقی | پنجاب میں ٹوٹنے والے اکثر مشرقی پنجاب کے باشندے ہیں مغربی پنجاب کے گئے ہوئے لوگ نہیں۔گو یا ظلم سے لوٹا ہوا مال بھی ان لوگوں کو نہیں ملتا جن کے مال لوٹے گئے ہیں ان لوگوں کو ملتا ہے جن کے گھر اور جائداد میں محفوظ ہیں۔جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں ایسے تمام لاوارث مال شریعت اسلامیہ کے رو سے حکومت کی ملکیت ہوتے ہیں۔پس پاکستان کے علاقہ کا جو مال ہندو اور سکھ چھوڑ جاتا ہے وہ کسی مسلمان کا نہیں وہ حکومت پاکستان کا ہے اور جو شخص اس مال کو کو تا ہے وہ ہند و سکھ کو نہیں کو تھا پاکستان کو کو تھا ہے۔جب امن ہوگا اور باہمی سمجھوتہ ہو گا تو حکومت پاکستان کو ان چیزوں کی قیمت ادا کرنی پڑے گی اور جب ایسا ہوا پاکستان کی حکومت کو مالی طور پر بہت بڑا نقصان پہنچے گا۔کیا یہ دیانتداری ہے؟ کیا یہ انصاف ہے کہ خود اپنی ہی حکومت کی جڑیں کاٹی جائیں؟ جس طرح افراد کو حق نہیں کہ افراد کا مال لوٹیں اسی طرح افراد کو یہ بھی حق نہیں کہ وہ غیر قوموں کے افراد کو ان کے دوسرے بھائیوں کے ظلموں کی وجہ سے اپنے ملک میں تنگ کریں۔اس بارہ میں بھی مسلمان اخبارات نہایت دلیری سے بار بار پبلک کو توجہ دلا چکے ہیں مگر