انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 195

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۹۵ الفضل کے اداریہ جات لوگ کہتے ہیں کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو آپ لوگ اپنے آدمیوں کی جانیں کیوں خطرہ میں ڈال رہے ہیں آپ قادیان کو فوراً خالی کر دیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہم قایان میں تین اصول کو مد نظر رکھ کر ٹھہرے ہوئے ہیں۔اول مؤمن کو خدا تعالیٰ کی مدد سے آخر وقت تک مایوس نہیں ہونا چاہئے۔جب تک ہم کو پکڑ کر نہیں نکالا جاتا ، ہمیں کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ خدا کی مشیت اور خدا کا فیصلہ کیا ہے اس لئے احمدی وہاں ڈٹے رہیں گے تاکہ خدا تعالیٰ کے سامنے ان پر یہ حجت نہ کی جائے کہ خدا کی نصرت تو آ رہی تھی تم نے اس سے پہلے کیوں مایوسی ظاہر کی۔دوسرے جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے احمدیوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ ہندوستان یونین کے دعوؤں کی آزمائش کریں گے اور یہ حقیقت آشکار کر کے چھوڑیں گے کہ جب وہ کہتے ہیں کہ کسی کو ہندوستان یونین سے جانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا تو وہ سچ کہتے ہیں یا جھوٹ۔احمدی چاہتے ہیں کہ انہیں بھی معلوم ہو جائے اور دنیا کو بھی معلوم ہو جائے کہ ہندوستان یونین کے وزراء جھوٹے ہیں یا بچے۔بے شک احمدیوں کو وہاں ٹھہرے رہنے میں قربانی کرنی پڑے گی لیکن ان کے وہاں ٹھہرے رہنے سے ایک عظیم الشان حقیقت آشکار ہو جائے گی یا تو دنیا کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ ہندوستان یونین کے افسر نیک نیتی اور دیانتداری کے ساتھ اپنے ملک میں امن قائم رکھنا چاہتے تھے اور یا دنیا پر یہ ظاہر ہو جائے گا کہ وہ منہ سے کچھ اور کہتے تھے اور ان کے دلوں میں کچھ اور تھا کیونکہ قادیان سے احمدیوں کا نکالا جانا ایک فوری واقعہ نہیں تھا کہ جس کی اصلاح ان کے اختیار میں نہیں تھی۔قادیان پر حملہ ایک مہینہ سے زیادہ عرصہ سے چلا آ رہا ہے، اس کے علاوہ خود میں نے پنڈت جواہر لال صاحب نہرو سے باتیں کیں اور اُن کو اس طرف توجہ دلائی۔پنڈت جواہر لال صاحب نہرو نے مجھے یقین دلایا کہ ہندوستان یونین ہرگز مسلمانوں کو اپنے علاقے سے نکلنے پر مجبور نہیں کرتی ، انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ تین چار دنوں تک وہ فون اور تار کے راستے کھلوانے کی کوشش کریں گے اور دو ہفتہ تک قادیان کی ریل گاڑی کے جاری کروانے کی کوشش کریں گے۔احمد یہ جماعت کا وفد سردار بلد یو سنگھ صاحب سے بھی ملا اور انہوں نے اصلاح کی ذمہ داری لی اور یہاں تک کہا کہ وہ خود قادیان جا کران