انوارالعلوم (جلد 19) — Page 196
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۹۶ الفضل کے اداریہ جات معاملات کو درست کرنے کی کوشش کریں گے۔احمد یہ جماعت کے وفد نے ہندوستان کے ہائی کمشنر مسٹر سری پر کاش صاحب سے کراچی میں ملاقات کی اور ان کو یہ واقعات بتائے اُنہوں نے کہا میں نے ہندوستان یونین کو اس طرف توجہ دلائی ہے اور دو تا ریں اس کے متعلق دی ہیں مگر مجھے جواب نہیں ملا۔احمد یہ جماعت کا وفد اس عرصہ میں سردار سمپورن سنگھ صاحب ڈپٹی ہائی کمشنر ہندوستان یونین سے ملا اور متعدد بار ملا اُنہوں نے یقین دلایا کہ اُنہوں نے افسران کی توجہ کو اس طرف پھیرا یا ہے اور اُنہوں نے ایک خط بھی دکھایا جو اُنہوں نے ڈاکٹر بھارگوا صاحب وزیر اعظم مشرقی پنجاب اور سردار سورن سنگھ صاحب ہوم منسٹر مشرقی پنجاب کو لکھا تھا جس کا مضمون یہ تھا کہ مشرقی پنجاب مسلمانوں سے خالی ہو گیا ہے۔اب صرف قادیان باقی ہے یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے اور احمد یہ جماعت کا مقدس مذہبی مرکز ہے اسے تباہ کرنے میں مجھے کوئی حکمت نظر نہیں آتی ، اگر اس کی حفاظت کی جائے تو یہ زیادہ معقول ہوگا۔پھر ڈپٹی ہائی کمشنر کے مشورہ سے احمد یہ جماعت کا ایک وفد جالندھر گیا اور ڈاکٹر بھار گوا صاحب اور سردار سورن سنگھ صاحب سے ملا اور چوہدری لہری سنگھ صاحب سے ملا۔ان لوگوں نے یقین دلایا کہ وہ احمد یہ جماعت کے مرکز کو ہندوستان یونین میں رہنے کو ایک اچھی بات سمجھتے ہیں، اچھی بات ہی نہیں بلکہ قابل فخر بات سمجھتے ہیں اور یہ کہ وہ فوراً اس معاملہ میں دخل دیں گے۔پھر اس بارہ میں لارڈ مونٹ بیٹن کو بھی متواتر تاریں دی گئیں ، مسٹر گاندھی کو بھی متواتر تاریں دی گئیں بہت سے ممالک سے ہندوستان یونین کے وزراء کو تاریں آئیں۔انگلستان کے نو مسلموں کا وفد مسٹر ہینڈرسن سے جو ہندوستان کے معاملات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ملا۔مسر وجے لکشمی پنڈت نے بھی اپنے بھائی کو تار دی۔اس عرصہ میں قادیان کے بہادر باشندے انسانوں کے ڈرکو دل سے نکال کر پولیس ملٹری اور سکھ جتھوں کے مشتر کہ حملوں کو برداشت کرتے چلے گئے لیکن اس تمام لمبے زمانہ میں حکومت کی طرف سے کوئی قدم اصلاح کا نہیں اُٹھایا گیا ان واقعات کی موجودگی میں ہندوستان یونین یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہمیں اصلاح کا موقع نہیں ملا۔تیسرے اپنے مقدس مقامات کو یونہی چھوڑ دینا ایک گناہ کی بات ہے۔جب تک تمام ممکن انسانی کوششیں اس کے بچانے کے لئے خرچ نہ کی جائیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کام میں