انوارالعلوم (جلد 19) — Page 167
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۶۷ الفضل کے اداریہ جات مطالبہ کو صحیح تسلیم کر کے ہندوستان کا تقسیم کا فیصلہ کیا جائے تو تقسیم بنگال یا تقسیم پنجاب کا سوال خارج از بحث ہو جاتا ہے مگر یہ بات کون سمجھائے اور کس کو سمجھائے۔یہاں تو جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا معاملہ ہے بلکہ آجکل تو لاٹھی بھی اُسی کے ہاتھ میں جس کے ہاتھ میں بھینس۔مسلمان کی کھو پری لاٹھی کے لئے وقف ہے اور اس کا پیٹ بھینس کے سینگوں کیلئے۔اس وقت دنیا یا کہو برطانیہ سکھ ہندو کے مطالبہ کو اس نظر سے دیکھ رہی ہے کہ جہاں سکھوں، ہندوؤں کی اکثریت ہے وہاں انہیں کیوں آزاد نہ کیا جائے میں او پر لکھ چکا ہوں کہ یہ دلیل غلط ہے لیکن ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ سر دست انگریز نے کرنا ہے۔میں نے یا آپ نے نہیں کرنا بعد میں طاقت پکڑ کر کوئی قوم تبدیلی کرے تو کر لے۔سر دست تو کفگیر سے انگیریز کے ہاتھ میں ہے اور کاسہ گدائی ہندوستانی کے۔اگر تقسیم پنجاب اور تقسیم بنگال کا یہ نیا فلسفہ انگریز کی سمجھ میں آ گیا ہے، خواہ غلط طور پر ہی آیا ہو تو اس کا علاج میں نہ مانوں سے نہ ہو سکے گا اس کا علاج تدبیر سے ہی ہوگا اور وہ تدبیر کم سے کم پنجاب کی تقسیم کے متعلق موجود ہے۔پنجاب کی تقسیم کا خیال انگریز کو ہندو کی وجہ سے نہیں بلکہ سکھ کی وجہ سے ہے۔ہندو اس وقت سکھوں کو آگے کر کے اپنا کام نکال رہا ہے اور سکھوں کو جو نقصان تقسیم پنجاب کی وجہ سے ہوگا اس کا یہ علاج بتا رہا ہے کہ مرکزی پنجاب میں اسے ایک نیم آزاد حکومت مل جائے گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وسطی پنجاب میں سکھ دوسرے علاقوں سے زیادہ ہیں لیکن کسی ایک جگہ بھی وہ ساری قوموں سے زیادہ نہیں اس لئے یہ دعوے اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتے لیکن حکومت کی لالچ بڑی ھے ہے۔یہ سوچنے سے انسان کو عاری کر دیتی ہے اور اس وقت سکھ بھی اس خیالی پلاؤ کے فریب میں آ کر چٹا رے مار رہے ہیں۔انگریز کہتا ہے کہ اگر میں مسلمان کا مطالبہ مانوں تو ہندو سکھ کا کیوں نہ مانوں۔مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ کوئی ایسی دلیل پیش کرے جسے غیر جانبدار لوگ آسانی سے سمجھ سکیں اور آبادی کی زیادتی وجہ تقسیم نہ قرار پائے۔ہمارے اتنا کہہ دینے سے کہ ہم تقسیم نہ ہونے دیں گے کچھ نہ بنے گا۔صرف عقلمندانہ تدبیر ہی اس جگہ کام دے سکتی ہے اور وہ تدبیر یہ ہے کہ ہم مطالبہ کریں کہ اول تو ہم تقسیم کے قائل ہی نہیں۔ہمارا پنجاب کی علیحدگی کا مطالبہ صرف اکثریت کی بناء پر نہ تھا بلکہ اس کی بناء اور امور پر تھی لیکن اگر