انوارالعلوم (جلد 19) — Page 156
ܪܩܙ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات انوار العلوم جلد ۱۹ بھی اس کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہ رکھتے تھے۔یہی وہ غلام تھے جن کو لوگ ذلیل سمجھتے تھے مگر جب اسلامی حکومت کا زمانہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا عروج بخشا کہ بڑے بڑے رؤساءان کے مقابلہ میں بالکل بیچ ہو گئے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ حضرت عمر اپنی خلافت کے ایام میں جب حج کے لئے مکہ مکرمہ آئے تو مکہ کے بڑے بڑے رؤساء ان کی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔حضرت عمر کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ آپ لوگوں کے نسب ناموں کو یا درکھنے میں بڑے ماہر تھے اور ان کو مکہ والوں کی کئی کئی نسلوں تک کے نام یاد تھے غرض مکہ کے رؤساء آپ کے پاس آتے گئے اور آپ انہیں بٹھاتے گئے حتی کہ ایک لمبی سی قطار بن گئی۔اس زمانہ میں کوئی بڑے ہال یا با رکیں تو ہوتی نہ تھیں یہی دس دس بارہ فٹ کے کمرے ہوتے تھے اس لئے وہ نو جوان روسا ء ایک کمرہ میں قطارسی بنا کر بیٹھ گئے تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ انہی غلاموں میں سے ایک غلام حضرت عمر کی ملاقات کے لئے آیا حضرت عمر نے رؤساء کی قطار میں سے ایک کو فرمایا ذرا پیچھے ہٹ جاؤ اور انہیں جگہ دے دو۔تھوڑی دیر بعد ایک اور غلام آیا تو حضرت عمر نے ایک اور رئیس کو ہٹا کر اس کے بیٹھنے کی جگہ بنائی اسی طرح کئی غلام آئے اور اتنے ہی مکہ کے رؤساء کو کو ہٹا کر ان کے بیٹھنے کی لئے جگہ بنائی حتی کہ رؤساء جوتیوں والی جگہ میں پہنچ گئے اور آخر وہ اس ذلت اور صدمہ کو برداشت نہ کرتے ہوئے وہاں سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور باہر جا کر ایک دوسرے سے کہنے لگے آج تو ہماری بے عزتی کی حد ہوگئی ہے کہ ہمارے مقابلہ میں غلاموں کو ترجیح دی گئی ہے ان غلاموں کو جو ہمارے باپ دادا کے وقت سے ذلیل اور حقیر چلے آتے تھے اور ہماری جوتیوں میں بیٹھا کرتے تھے۔ان رؤساء میں ایک سعید الفطرت رئیس بھی تھا وہ کہنے لگا آخر اس میں کس کا قصور ہے جب ہم اور ہمارے باپ دادا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دُکھ دیا کرتے تھے ، جب ہم اور ہمارے باپ دادا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کو روکنے کی کوششیں کیا کرتے تھے ، جب ہم اور ہمارے باپ دادا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی دُکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا رکھتے تھے اور جب ہم نے اور ہمارے باپ دادوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے وفائی کا سلوک کیا اُس وقت یہی غلام تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وفادار رہے اس لئے