انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 140

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۴۰ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات تم میں سے جن جن کے لئے ممکن ہوا نہیں چاہئے کہ وہ حبشہ کی طرح ہجرت کر کے چلے جائیں میں نے سنا ہے وہاں کا بادشاہ عادل اور انصاف پسند ہے اور اس کی حکومت میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔صحابہ نے عرض کیا یا رَسُولَ الله اور آپ؟ آپ نے فرمایا مجھے ابھی تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کی اجازت نہیں ملی۔چنانچہ آپ کے ارشاد کے ماتحت بہت سے صحابہ ہجرت کر کے حبشہ کی طرف چلے گئے۔اس پر قریش مکہ کے دلوں میں پھر جوش پیدا ہوا اور انہوں نے کہا مسلمان تو بیچ کر یہاں سے نکل گئے اور ہمارے پنجہ سے بچ گئے چنانچہ رؤسائے مکہ نے باہم مشورہ کر کے اپنے دو ممتاز رئیسوں یعنی عمرو بن العاص اور عبد اللہ بن ربیعہ کو حبشہ کی طرف روانہ کیا اور ان کے ساتھ بادشاہِ حبشہ اور اس کے وزراء اور درباریوں کے لئے تحفے تحائف روانہ کئے۔یہ وفد نجاشی کے دربار میں پہنچا اور تحفے تحائف پیش کرنے کے بعد کہا اے بادشاہ ! آپ۔ہمارے بھائی ہیں ہمارے ملزم بھاگ کر آپ کی حکومت میں پہنچ چکے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ آ ان کو واپس کر دیں تا کہ ہم ان کو ساتھ لے جائیں یہ لوگ جو بھاگ کر آئے ہیں انہوں نے اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر ایک نیا دین اختیار کر لیا ہے اور یہ سخت فسادی لوگ ہیں اس لئے ہم آپ سے یہ امید کرتے ہیں کہ آپ ہمارے مجرموں کو اپنی پناہ میں نہیں رکھیں گے۔درباریوں نے بھی اس وفد کی پُرزور تائید کی لیکن نجاشی جو عادل اور رحم دل اور بیدار مغز حکمران تھا اُس نے کہا مجھے پہلے تحقیقات کر لینے دو وہ لوگ میری پناہ میں آئے ہیں جب تک میں ان کے بیانات نہ سُن لوں آپ کے حق میں یکطرفہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔چنانچہ بادشاہ نے مسلمان مہاجرین کو دربار میں طلب کیا اور اُن سے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے؟ اس پر حضرت جعفر بن ابی طالب نے مسلمانوں کی طرف سے جواب دیا۔اے بادشاہ ! ہم پہلے جاہل تھے اور بت پرستی کرتے تھے ہم ہر قسم کی بدیوں اور بدکاریوں میں مبتلا تھے خدا تعالیٰ نے اپنا رسول ہم میں بھیجا جس نے ہمیں توحید سکھلائی اور بت پرستی سے روکا ہم اُس پر ایمان لائے اور اُس کی اتباع کر کے خدائے واحد کی پرستش کرنے لگے ، اس پر ہماری قوم ناراض ہوگئی ہمیں انواع واقسام کی تکلیفوں اور دکھوں میں مبتلا کر دیا اور ہمیں خدا کی عبادت سے روکنا چاہا اور جب یہ ظلم حد برداشت سے بڑھ گئے تو ہمارے آقا نے ہمیں حکم دیا کہ تم لوگ حبشہ کی طرف ہجرت کر جاؤ کیونکہ حبشہ کا بادشاہ عادل ہے