انوارالعلوم (جلد 19) — Page 136
انوار العلوم جلد ۱۹ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات مجبور تھے ورا ان کی کوئی مدد بھی نہ کر سکتے تھے مگر خدا تعالیٰ بھی اِس بات کو برداشت نہ کر سکتا تھا کہ آپ کا ایک وفادار اور گہرا دوست آپ سے جدا ہو جائے اور آپ کے دل کو رنج پہنچے۔چنانچہ حضرت ابو بکر جب تیاری کر کے کہیں جانے لگے تو مکہ کے ایک رئیس نے اُن کو دیکھا اور کہا ابوبکر ! کہیں سفر کی تیاریاں معلوم ہوتی ہیں۔حضرت ابو بکر نے جواب دیا مکہ کے لوگوں نے ہم پر اتنا ظلم شروع کر دیا ہے کہ باوجود یکہ ہم ان کا کچھ نہیں بگاڑتے صرف اس قصور پر کہ ہم خدائے واحد کی پرستش کرتے ہیں ہمیں خدا کا نام لینے سے روکا جاتا ہے۔وہ رئیس جو حضرت ابو بکڑ سے بات چیت کر رہا تھا وہ اسلام کا ایک شدید ترین دشمن تھا مگر خدائے تعالیٰ نے اس کو اپنا آلہ کار بنایا اور اس کے دل میں نرمی پیدا کر دی چنانچہ اس رئیس نے حضرت ابو بکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ابو بکر ! تمہارے جیسا انسان جس شہر سے نکل جائے وہ شہر کبھی بچ نہیں سکتا وہ ضرور اُجڑ جائے گا تم کہیں جانے کا ارادہ ترک کر دو آؤ اور میرے ساتھ چلو تمہیں دکھ دینے والے پہلے مجھ سے پیٹیں گے پھر تمہارے پاس پہنچیں گے۔چنانچہ اس رئیس نے اُسی وقت سارے شہر میں اعلان کرایا کہ اے لوگو ! سن لو جس کسی نے ابو بکر کی طرف انگلی بھی اُٹھائی تو اُس کے لئے اچھا نہ ہوگا کیونکہ ابو بکر آج سے میری امان میں ہے اُس وقت جب کہ حضرت ابو بکر تیاری کر کے شہر سے نکلے بھی اور واپس بھی آگئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو یہ سمجھ رہے ہوں گے اور افسوس کر رہے ہوں گے کہ میرا ایک دیرینہ دوست مجھ سے جدا ہو گیا ہے مگر خدا تعالیٰ عرش پر بیٹھا کہہ رہا تھا آلیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ - مکہ والوں کے مظالم دن بدن بڑھتے گئے اور انہوں نے طرح طرح کے دکھ مسلمانوں کو دینے شروع کئے۔غلاموں کو ان کے مالک سخت سے سخت سزائیں دیتے تھے اور دوسرے لوگوں کو ان کے رشتہ دار طرح طرح کے دکھ دیتے تھے۔کسی کو اتنا مارا گیا کہ اسے ہلکان ہی کر دیا گیا، کسی کی آنکھیں نکال دی گئیں، کسی کو اتنا مارا جاتا کہ اس کے حواس مختل ہو جاتے ، کسی کو گرم ریت پر لٹایا جا تا کسی کو رسیوں سے جکڑ کر مارا جاتا اور کسی کو دہکتے ہوئے کوئلوں پر لٹایا جا تا غرض مسلمانوں کو ایسے ایسے دکھ دیئے جاتے جن کا تصور کر کے بھی انسان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔غرض قریش مکہ کی عداوت بڑھی اور انہوں نے دکھ دینے کی نئی نئی ۱۴