انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 133

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۳۳ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات۔مقابلہ کریں گے وہ اُن کو چھوڑتے جار ہے ہیں تو اُن کو فکر پیدا ہوئی کہ یہ بات جسے ہم معمولی سمجھتے تھے دن بدن بڑھتی جا رہی ہے آخر انہوں نے مشورہ کیا کہ اب ان مسلمانوں کو ڈنڈے کے ساتھ سیدھا کرنا چاہئے۔جیسے ہمارے ہاں زمیندار پنجابی زبان میں کہتے ہیں کہ میں تینوں ڈنڈے نال سدھا کر انگا یعنی اب میں تمہیں ڈنڈے کے ساتھ سیدھا کر دوں گا اسی طرح مکہ والوں نے بھی کہا کہ اب ہم مسلمانوں کو ڈنڈے کے ساتھ ٹھیک کریں گے۔چنانچہ انہوں نے مسلمانوں پر ظلم کرنے شروع کر دیئے۔ظلم کے وقت کسی جماعت کے امام یا لیڈر کی جو حالت ہوتی ہے وہ نہایت عجیب ہوتی ہے۔جب کوئی خطرہ اور سختی کا وقت آتا ہے تو امام کے دل میں طرح طرح کے وساوس پیدا ہوتے ہیں کہ کہیں میرے پیر وسختی کو برداشت نہ کرتے ہوئے کمزوری نہ دکھا جائیں۔میں بھی ایک جماعت کا امام ہوں مجھے ذاتی تجربہ ہے کہ امام کے لئے سب سے بڑا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ اُس کی جماعت عین موقع پر کمزوری نہ دکھا جائے جہاں تک خدا کے خانہ کا تعلق ہے وہ سمجھتا ہے کہ خدا ہماری مدد کرے گا لیکن جب وہ بندوں کے خانہ کے متعلق سوچتا ہے تو وہ ڈرتا ہے کہ کہیں یہ لوگ کسی قسم کی کمزوری نہ دکھا جائیں۔پس سب سے بڑا خطرہ کسی جماعت کے امام کو نازک موقع پر اپنی جماعت یا پیروؤں کے کمزوری دکھا جانے کے متعلق ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے مالی لحاظ سے کمزور تھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ پر ایمان لانے والے نوجوانوں میں سے بہت سے ایسے بھی تھے جو بڑے بڑے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے اور بڑے بڑے رؤساء کے بیٹے تھے مگر چونکہ وہ خود جائدادوں کے مالک نہ تھے اس لئے ان کو مالی لحاظ سے کمزور کہنا ہی درست ہو گا چنانچہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر با وجود رؤساء کے بیٹے ہونے کے ماریں کھاتے تھے۔حضرت زبیر کا ظالم چا ان کو چٹائی میں لپیٹ کر اُن کے ناک میں آگ کا دھواں دیا کرتا تھا اور کہتا تھا کہ تم اسلام سے باز آ جاؤ مگر وہ جوانمرد بڑی خوشی کے ساتھ اس تکلیف کو برداشت کرتے اور کہتے کہ جب صداقت مجھ پر واضح ہو چکی ہے تو میں اس سے کس طرح انکار کر سکتا ہوں۔اسی طرح حضرت عثمان گو مرہ الحال آدمی تھے لیکن اُن کے چا حکم بن ابی عاص نے ان کو رسیوں سے جکڑ کر پیٹا اور کہا تم محمد کے پاس نہ جایا کرو مگر انہوں نے کہا چا! تم جتنا مرضی ہے مارلو میں صداقت کے اظہار سے