انوارالعلوم (جلد 19) — Page 129
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۲۹ صلى رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات ۔۔۔ صلى اُسی دن دو پہر کو حضرت ابو بکر پھیری سے واپس آئے۔ ان کی واپسی تک یہ خبر سارے شہر میں سرعت کے ساتھ پھیل چکی تھی دشمن تو ایسی باتوں کو آن کی آن میں اُڑا دیتے ہیں۔ سارے شہر میں اس کے ہو تھا پیا تعلق چہ میگوئیاں ہورہی تھیں کوئی کہتا تھ محمد ﷺ پاگل ہو گیا ہے، کوئی کہتا تھا وہ اپنی عزت بڑھانا چاہتا ہے، اسی طرح جو کچھ کسی کے منہ میں آتا تھا کہہ دیتا تھا غرض یہ خبر آگ کی طرح سارے شہر میں پھیل چکی تھی۔ ایک نے دوسرے سے ذکر کیا اور دوسرے نے تیسرے سے کہا ہر گھر میں یہی باتیں ہو رہی تھیں حضرت ابو بکر جب دو پہر کے وقت تجارت سے واپس آئے اور مکہ میں پہنچے تو چونکہ شدت کی گرمی تھی اس لئے شہر کے ایک کنارے پر اپنے ایک دوست کے گھر میں پہنچے تا کہ ذر استالیں ۔ انہوں نے اپنی گٹھڑی اُتاری اور پانی وغیرہ پی کر چادراً تا ر کر لیٹنے ہی لگے تھے کہ اُن کے دوست کی بیوی سے نہ رہا گیا اور اُس نے کہا ہائے ہائے ! اس بے چارے کا دوست پاگل ہو گیا ہے ۔ حضرت ابوبکر لیٹتے لیٹتے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کس کا دوست؟ اُس عورت نے کہا تمہارا دوست محمد پاگل ہو گیا ہے ۔ حضرت ابوبکر نے پوچھا تمہیں کس طرح معلوم ہوا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے؟ وہ عورت کہنے لگی وہ کہتا ہے خدا کے فرشتے مجھ پر نازل ہوتے ہیں اور خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے ۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر اُسی وقت وہاں سے چل پڑے اور سیدھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پہنچے اور دروازہ پر دستک دی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز سے پہچان لیا کہ ابو بکر آئے ہیں ۔ آپ نے خیال کیا کہ ایسا نہ ہو کہ میرے یکدم بتا دینے سے ابو ابو بکرے کو ٹھوکر لگ جائے جائے کیونکہ حضرت ابوبکر ابو بکر آپ ۔ کے نہایت قدیمی دوست تھے آپ نے جب دروازہ کھولا تو آ روازہ کھولا تو آپ کے چہرے پر گھبراہٹ ۔ پر گھبراہٹ کے آثار تھے حضرت ابو بکر نے جب آپ کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا کیا یہ بات سچ ہے کہ آپ پر خدا کا فرشتہ نازل ہوا ہے ہے اور خدا تعالیٰ آپ سے ہمکلام ہوا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس خوف سے کہ ابو بکر کو ٹھوکر نہ لگ جائے جلدی کوئی بات بتانے میں متامل تھے اس لئے آپ نے فرمایا ابوبکر ! پہلے ذرا سن تو لو۔ بات یہ ہے کہ حضرت ابو بکڑ نے عرض کیا میں اور کوئی بات سننا نہیں چاہتا میں تو یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ پر خدا کے فرشتے اُترے شتے اُترے ہیں یا نہیں ؟ اس پر آپ نے فرمایا ۔ ابوبکر ! ذرا میری بات تو سن لو۔ یہ دیکھ کر حضرت ابو بکر نے کہا میں آپ کو