انوارالعلوم (جلد 19) — Page 130
انوار العلوم جلد ۱۹ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات خدا کی قسم دیتا ہوں کہ آپ کوئی بات نہ کریں بلکہ مجھے یہ بتائیں کہ کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے کہا ہے کہ خدا آپ کے ساتھ باتیں کرتا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں۔یہ سنتے ہی حضرت ابو بکر نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور پھر کہا يَا رَسُولَ اللہ ! کیا آپ دلیلیں دے کر میرے ایمان کو کمزور کرنے لگے تھے۔۱۳ اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا تھا کہ میں ابو بکر کو دلائل دے کر منواؤں گا مگر خدا تعالیٰ عرش پر بیٹھا یہ نظارہ دیکھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا۔آليس الله بکاف عبده اے محمد ! ( ﷺ ) ابو بکر کو تیری دلیلوں کی ضرورت نہیں رہی ہم نے خود اس کو دلیلیں دے دی ہوئی ہیں اور وہ جس درجہ اور رتبہ کا مستحق ہے ہم خود اُس کو کھینچ کر اس کی طرف لے آئیں گے۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد کا یہ کیا شاندار نظارہ ہے۔حضرت موسیٰ تو مانگ کر ایک مدد گار لیتے ہیں مگر محمد رسول اللہ ﷺ کو خدا تعالیٰ چند منٹوں کے اندراندر چاروفا داردے دیتا ہے۔آپ کی اور حضرت موسیٰ کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہتے کہیں کوئی بادشاہ سیر کو جا رہا تھا کہ اس نے رستہ میں دیکھا کہ ایک بڑھا جس کی عمر اسی یا نوے سال کی ہے ایک درخت لگا رہا ہے اور وہ درخت کوئی اس قسم کا تھا جو بہت لمبے عرصہ کے بعد پھل دیتا تھا با دشاہ نے سواری کو روک کر بڑھے کو بلایا اور کہا بوڑھے میاں! یہ درخت جو تم لگا رہے ہو یہ تو بہت لمبے عرصے کے بعد پھل دیتا ہے اس سے تم کیا فائدہ اُٹھا سکتے ہو؟ بڑھا کہنے گا بادشاہ سلامت ! بات یہ ہے کہ ہمارے باپ دادا نے درخت لگائے جن کے پھل ہم نے کھائے اب ہم درخت لگائیں گے جن سے آئندہ آنے والے پھل کھائیں گے اگر ہمارے باپ دادا بھی یہی خیال کرتے کہ ہم ان درختوں کا پھل نہیں کھا سکیں گے اور وہ درخت نہ لگاتے تو ہم پھل کیسے کھاتے اس لئے بادشاہ سلامت ! یہ سلسلہ تو اسی طرح چلا آتا ہے کہ لگا تا کوئی ہے اور کھاتا کوئی ہے۔بادشاہ نے یہ سن کر بڑھے کی عقل کی داد دیتے ہوئے کہا ”زہ، جس کا مطلب یہ تھا کہ کیا خوب بات کہی ہے اور بادشاہ نے اپنے خزانچی کو یہ حکم دے رکھا تھا کہ جب میں کسی بات پر خوش ہو کر زہ کہوں تو اُسے یکدم تین ہزار درہم کی تھیلی دے دیا کرو اس لئے جب بادشاہ نے کہا زہ تو خزانچی نے بڑھے کو