انوارالعلوم (جلد 19) — Page 124
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۲۴ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات چالیس سال سے کم عمر میں ضرورت اور حکمت کے ماتحت ہوئی۔حضرت بی کے متعلق خدا تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ ان کو جلدی ہی اُٹھا لیا جائے ان کی بعثت چھبیس سال کی عمر میں ہوئی اور حضرت عیسی علیہ السلام نے چونکہ بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی تلاش میں نکلنا تھا جو ان سے پہلے کسی زمانہ میں ملک بدر کر دی گئی تھیں اور خدا تعالیٰ نے ان کو افغانستان اور کشمیر وغیرہ کے علاقوں میں پھیلا دیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی کو چالیس سال سے کم عمر میں ہی مبعوث فرمایا تا کہ آپ پہلے اپنی قوم کے ایک حصہ کو ہدایت دے لیں اور بلوغت حقیقی سے پہلے پہلے بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی تلاش کر لیں۔اُس زمانہ میں چونکہ سفر کرنا مشکل تھا نہ ریل تھی ، نہ تاریں تھیں اور نہ ڈاکخانے تھے اس لئے بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی تلاش ایک لمبے وقت کی متقاضی تھی۔اُس زمانہ میں تیز رو سواریاں نہ ہونے کی وجہ سے ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچنے میں بعض اوقات سال بلکہ دو دو سال لگ جاتے تھے کیونکہ سمندر کے رستے سے جانا بھی مشکل تھا اور پہاڑوں کو عبور کرنا بھی مشکل تھا اُس وقت راستے نہایت دشوار گزار ہوتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو تمہیں سال کی عمر میں ہی مبعوث فرما دیا تا کہ آپ پہلے اپنی قوم کی راہنمائی فرما لیں اور جب آپ بلوغت حقیقی کو پہنچیں تو بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کو تلاش کر چکے ہوں۔مگر عام طور پر اللہ تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ وہ چالیس سال کی عمر میں ہی انبیاء کومبعوث فرماتا ہے۔چنانچہ حضرت موسیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کی عمر میں ہی مبعوث ہوئے تھے۔بہر حال جب آپ اس عمر کے قریب پہنچے تو گردو پیش کے ماحول نے جو کفر و الحاد سے بھرا پڑا تھا آپ کے دل پر گہرا اثر ڈالا اور آپ کی طبیعت اس سے سخت متنفر اور بیزار ہوئی۔آپ نے جیسا کہ ہر نبی ہی شرک سے پاک ہوتا ہے کبھی شرک نہیں کیا تھا بلکہ مشر کا نہ خیالات بھی آپ کے قریب تک نہ پھٹکے تھے مگر وہ تو حید کامل جو شریعت الہیہ کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی آپ ابھی اُس سے نا واقف تھے اس لئے طبعی طور پر آپ کے دل میں توحید کامل کی جستجو پیدا ہوئی اور معرفت حقہ اور عرفانِ تائم کی تڑپ آپ کو ستانے لگی۔گرد و پیش کے حالات نے آپ کو اور بھی ابھارا اور آپ ہمہ تن یادِ خدا میں مصروف رہنے کیلئے خویش و اقارب کو ترک کر کے شہر سے باہر ایک غار میں جسے غار حرا کہتے ہیں تشریف لے جاتے اور کئی