انوارالعلوم (جلد 19) — Page 120
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۲۰ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات سامنے پیش کیا تو وہ اتنا نفع دیکھ کر حیران رہ گئی اور اُس نے نوکروں سے پوچھا اتنی دولت کس طرح نفع میں آگئی؟ انہوں نے کہا بات یہ ہے کہ آپ جب ہمیں تجارت کے لئے بھیجتی تھیں تو ہم اس میں سے خود بھی کھاتے پیتے تھے مگر محمد (ﷺ) نے تو کسی کو ہاتھ بھی لگانے نہیں دیا نفع نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔غرض آپ نے تجارت کا کام اس خوش اسلوبی سے کیا کہ وہ دولت مند عورت آپ کی ایمانداری کی قائل ہوگئی۔وہ بیوہ عورت تھی اور بہت بڑے مال کی مالک تھی ، اُس کے بہت سے غلام تھے اور نوکر چاکر تھے اسی لئے اُس کے قافلے دوسرے ملکوں میں جا کر تجارت کرتے تھے ورنہ دوسرے ملکوں میں قافلہ بھیجنا معمولی بات نہیں وہ اپنی ایک سہیلی کے ساتھ بات چیت کر رہی تھی کہ سہیلی نے اسے کہا بی بی ! تم ابھی جوان ہو اور بیوہ ہو چکی ہو اور پھر تمہیں ایسا اچھا دیانت دار اور ایماندار خاوند مل سکتا ہے جس کی دیانتداری اور ایمانداری کی مثال سارے شہر میں نہیں مل سکتی اس لئے تمہیں چاہئے کہ اس کے ساتھ شادی کر لو۔اس دولت مند عورت نے اپنی سہیلی کو جواب دیا کہ ہے تو تمہاری بات ٹھیک لیکن اگر یہ بات میرے باپ نے سن لی تو وہ مجھے جان سے مار ڈالے گا۔سہیلی نے کہا تم اس بات کی فکر نہ کرو یہ سب انتظام میں خود کرلوں گی۔چنانچہ اس نے ادھر اس کے باپ کو راضی کر لیا اور ادھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا اگر آپ کی شادی ایک دولت مند عورت سے ہو جائے تو کیا آپ پسند کریں گے؟ آپ نے فرمایا میرے پاس تو کچھ ہے نہیں اس لئے کوئی دولت مند عورت میرے ساتھ کس طرح شادی کرنے پر رضا مند ہوسکتی ہے۔اُس نے کہا آپ کے پاس جو چیز ہے اُس کو ہر عورت ہی پسند کرتی ہے اور وہ ہے آپ کی دیانت امانت اور شرافت اس لئے آپ اس بات کا فکر نہ کریں کہ آپ کے پاس مال و دولت نہیں ہے آپ کے پاس جو چیز ہے اس کے مقابلہ میں مال و دولت کیا چیز ہے۔آپ نے فرمایا اپنے چچا کی اجازت کے بغیر شادی نہیں کرسکتا۔اُس نے کہا اچھا میں آپ کے چچا سے بھی پوچھ لیتی ہوں چنانچہ وہ ابو طالب کے پاس گئی انہوں نے رضا مندی کا اظہار کیا اور آپ کی شادی ہوگئی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اليس الله بکاف عبده کہ اے محمد ﷺ! تیرے پاس کا روبار کے لئے کچھ نہ تھا مگر ہم نے انتظام کیا یا نہ کیا ؟ اور جب تیری شادی کا موقع آیا تو باوجود اس کے کہ تو غریب تھا صلى الله