انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 117

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۱۷ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات۔نہ تھے صرف کھاتے پیتے لوگوں سے تھے ان کی اولاد بہت زیادہ تھی اس لئے اخراجات بھی زیادہ تھے اس لئے وہ حلیمہ کو کچھ زیادہ نہ دے سکے مگر وہی حلیمہ جس کو وہ چھوٹا بچہ لے جاتے وقت یہ خیال تھا کہ اس کو پالنے کے بدلہ میں مجھے کیا ملنا ہے یہ بچہ تو یتیم ہے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا اور اس کے بعد جنگ حنین میں حلیمہ کی ساری قوم قید ہو کر آ گئی تو آپ نے یہ خیال کیا کہ یہ لوگ جب سفارش لے کر میرے پاس آئیں گے تو ان سب قیدیوں کو میں چھوڑ دوں گا مگر وہ لوگ ( جو قبیلہ ہوازن کے تھے ) اس شرم سے آپ کے پاس سفارش کے لئے نہ آئے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمارا بچہ تھا اور ہم نے اس کے ساتھ جنگ کی ہے ہم کس طرح اس کے پاس جا کر سفارش کریں۔آخر آپ کی رضائی بہن یعنی حلیمہ کی بیٹی آپ کے پاس آئی اور آپ نے اس کی ساری قوم کو آزاد کر دیا۔۵ اب دیکھو یہ اتنا بڑا بدلہ تھا کہ سارے عرب میں سے کسی بڑے سے بڑے سردار کی طرف سے بھی کسی بچہ کو پالنے کا نہ ملا ہو گا۔آپ نے اپنی رضائی بہن کی سفارش پر ان کی قوم کے تین ہزار قیدی بلا فدیہ رہا کر دئیے۔اگر ایک قیدی کا فدیہ پانچ سو بھی شمار کیا جائے تو یہ رقم پندرہ لاکھ بنتی ہے مگر آپ نے صرف حلیمہ کی خدمت کے بدلہ میں ان سب قیدیوں کو رہا کر دیا۔اب دیکھو یہ کتنا بڑا انعام تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حلیمہ کو ملا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آلیس الله بکاف عبده اے محمد ! تجھے بِكَافٍ عَبْدَهُ گاؤں کی ساری عورتیں رد کر گئی تھیں اور حلیمہ بھی تجھے ایک دفعہ رڈ کر کے چلی گئی تھی اس خیال سے کہ تم غریب تھے مگر کیا میں نے تیری غربت کو دور کیا یا نہ کیا ؟ اور تجھ سے حلیمہ کو وہ انعام دلوایا جو سارے عرب میں سے کبھی کسی نے نہ دیا تھا اور نہ دے سکتا تھا۔اس کے بعد آپ کو یہ صدمہ پہنچا کہ آپ کے دادا حضرت عبد المطلب فوت ہو گئے۔یہ حادثہ بھی آپ کے لئے نہایت تکلیف دہ تھا مگر حضرت عبدالمطلب نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چا ابو طالب کو بلایا اور اُن کو وصیت کی کہ دیکھو! محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو میری امانت سمجھنا اور ہر چیز سے اس کو زیادہ عزیز رکھنا۔ہم دیکھتے ہیں کہ کہنے کو تو سب لوگ کہہ جاتے ہیں مگر خیال رکھنے والے بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔بیویاں