انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 114

رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۱۴ وسلم کی ساری زندگی خطرات سے پُر ہوگی لیکن ہر خطرہ کے وقت میں اس کی مددکروں گا۔پس یہ ایک پیشگوئی نہیں بلکہ دو پیشگوئیاں ہیں ایک طرف تو آپ کے متواتر خطرات سے دو چار ہونے کی پیشگوئی ہے اور دوسری طرف متواتر ان خطرات کو دور کرنے اور آپ کی مدد کرنے کی پیشگوئی ہے۔سب سے پہلا خطرہ جو آپ کو اپنی زندگی میں پیش آیا وہ یہ تھا کہ ابھی آپ اپنی والدہ کے پیٹ میں ہی تھے کہ آپ کے والد کی وفات ہوگئی۔اُس وقت قدرتا یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ اس بچہ کو جو ا بھی ماں کے پیٹ میں ہے پالے گا کون ؟ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ادھر آپ پیدا ہوئے اور اُدھر آپ دادا عبد المطلب کی گود میں پہنچ گئے۔انہوں نے بچے کو دیکھتے ہی کہا یہ تو چاند سا مکھڑا ہے اور پھر فرط محبت سے بچے کو گود میں اُٹھا کر بیت اللہ میں لے گئے اور وہاں جا کر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا گویا باپ کی موت کے بعد یکدم خدا تعالیٰ نے باپ کی جگہ آپ کے دادا کے دل میں باپ جیسی شفقت بھر دی اور آلیس الله بِكَافٍ عَبْدَہ کی پیشگوئی پہلی بار پوری ہوئی۔یہ صرف خدا تعالیٰ کا فضل اور اُس کی مددہی تھی ورنہ ہم روزانہ کئی واقعات دیکھتے ہیں کہ جب کسی شخص کا کوئی ایسا لڑکا فوت ہو جائے جس کی اولاد ہو تو وہ اپنے پوتے کی طرف سے توجہ پھیر لیتا ہے اور اُسے پرواہ ہی نہیں ہوتی کہ وہ اس کا پوتا ہے اسی طرح اس کے دوسرے لواحقین بھی اپنی توجہ اس کی طرف سے پھیر لیتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اس بچہ کے ساتھ دُور کا بھی رشتہ نہیں۔لیکن آپ کے والد کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ نے آپ کے دادا کے دل میں آپ کے لئے بے انتہا محبت بھر دی اور اس نے کہا یہ تو ہمارا بیٹا ہے اور چاند کا ٹکڑا ہے یہ آلیس الله بِكَافٍ عبده والی پیشگوئی کا ہی ظہور تھا کہ باپ نہ تھا تو دادا کے دل میں اللہ تعالیٰ نے محبت اور اُلفت پیدا کر دی۔پس اللہ تعالٰی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اسے محمد ﷺ ! آليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَة جب تمہارا باپ نہ تھا تو کیا ہم تمہارے باپ بنے تھے یا نہ؟ پھر اس کے بعد خدا تعالیٰ نے جو کام آپ سے لینے تھے وہ تقاضا کرتے تھے کہ آپ کی صحت اعلیٰ درجہ کی ہو اور آپ کے قومی نہایت مضبوط ہوں کیونکہ آپ نے ایک طرف تمام انبیاء سے افضل نبی بننا تھا اور دوسری طرف اعلیٰ درجہ کا جرنیل بھی بنا تھا مگر مکہ میں پھلوں کی بھی کمی تھی ،۔