انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 113

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۱۳ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات۔ساتھ ہی علی قدر مراتب حسن سلوک کرتا ہے مگر ہاں یہ آیت اپنی اس شکل میں چونکہ سب سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے اس لئے اس کا سب سے اعلیٰ اور ارفع ظہور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر ہی ہوا ہے۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ آیت تو آپ پر بعد میں اُتری مگر آپ کی ساری زندگی ہی آلیس اللهُ بِكَافٍ عبده کانمونہ نظر آتی ہے۔اليس الله بِكَافٍ عَبْدَة کا صرف ایک ہی پہلو نہیں بلکہ دو پہلو ہیں اور اس کے اندر دو نہایت عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں۔ایک یہ کہ آپ کو بہت زیادہ خطرات پیش آئیں گے اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر خطرہ کے وقت آپ کی حفاظت کرے گا کیونکہ حفاظت کی ضرورت تبھی ہوتی ہے جب کوئی خطرہ درپیش ہو۔اگر کوئی خطرہ نہ ہو تو حفاظت اور مدد کے معنی ہی کچھ نہیں ہوتے۔پس اللہ تعالی آلیس الله بکاف عبده میں فرماتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی خطرات سے پُر ہوگی مگر ہر خطرہ کے موقع پر میں اس کی حفاظت کروں گا اور یہ دونوں چیزیں متوازی ہوں گی۔ایک شخص جس کے پاس بچپن میں ہی بے شمار مال و دولت آجائے ، طاقت آجائے ، اُس کے نوکر چاکر موجود ہوں، اُس کو پڑھانے والے بڑے بڑے عالم موجود ہوں ، اُس کی عالیشان کوٹھیاں ہوں ، موٹر کار میں ہوں ، اُس کی عمارات اور ساز و سامان کو دیکھ کر لوگ اُسے لڑکیاں دینے کے لئے تیار ہوں، اس کی مجلس میں بیٹھنے والے دوست موجود ہوں اور ہر وقت اُس کے پاس عیش و عشرت کی محفلیں منعقد ہوں اُس کو خدا تعالیٰ کی نعمتوں اور انعامات کی قدر نہیں ہوتی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دولت مند کو مکان ، گھوڑے اور ہاتھی وغیرہ سب کچھ خدا تعالیٰ ہی دیتا ہے مگر ایسے لوگوں کے پاس چونکہ یہ سب کچھ ماں باپ کی طرف سے پہنچتا ہے اس لئے یہ بات کہ خدا دیتا ہے ان کی نظر میں نہیں آسکتی۔وہ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں تو ہمیں ماں باپ سے بطور ورثہ ملی ہیں ایسے لوگوں کی زندگی خدا تعالیٰ کے فضل کو ظاہر کرنے والی نہیں ہوتی ان کی نظر صرف مادیات میں پھرتی ہے خدا تعالیٰ کی طرف نہیں جاتی۔غرض آليس اللهُ بِكَافٍ عبده سے اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ محمد صلی اللہ علیہ