انوارالعلوم (جلد 19) — Page 112
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۱۲ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات اس سے واقف ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ عبد کے ساتھ ہ کی اضافت واضح طور پر بتا رہی ہے کہ اس جگہ ہر وہ شخص مخاطب ہے جو اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بن جائے اور یہ ایک حقیقت ہے جس کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ اللہ تعالی علی قدر مراتب اپنے ہر عبد کی خبر گیری کرتا اور اس کی ضروریات کو پورا فرماتا ہے۔پس یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو غیر معین ہے اور جس کے معنی یہ ہیں کہ جو بھی اللہ تعالیٰ کا عبد ہوگا وہی اِس آیت کا مخاطب ہوگا چاہے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں ، حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوں، حضرت عیسی علیہ السلام ہوں یا ان سے اُتر کر صدیقین، شہدا ، اور صالحین وغیرہ ہوں یعنی جو بھی خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والا عبد ہو وہی اس آیت کا مخاطب ہوگا اور اللہ تعالیٰ علیٰ قدر مراتب اپنے سارے عِباد سے حسن سلوک فرماتا رہے گا۔جتنا اعلیٰ عبد ہوگا اُتنا ہی اعلیٰ خدا تعالیٰ بھی اُس سے حسن سلوک کرے گا اور جتنا ادنیٰ عبد ہو گا اتنا ہی کم اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کرے گا۔میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اتنے چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی اپنے بندے کی خبر گیری کرتا ہے کہ دیکھ کر حیرت آتی ہے کہ اتنی خبر گیری تو قریبی سے قریبی رشتہ دار بھی ضرورت پڑنے پر نہیں کیا کرتے۔ادھر منہ سے ایک چھوٹی سے بات نکلتی ہے اور ادھر پوری ہو جاتی ہے، بعض دفعہ کسی آدمی کے متعلق خیال کیا جاتا ہے تو وہ جھٹ آ پہنچتا ہے اور بعض دفعہ کسی چیز کے متعلق خیال کیا جاتا ہے تو وہ جھٹ مل جاتی ہے۔ابھی اترسوں کا ذکر ہے کہ ایک ایسی بات ہوئی جس کو میرے چھوٹے بچے نے بھی محسوس کیا حالانکہ چھوٹے بچوں میں کسی اہم بات کے احساس کا شعور نہیں ہوتا وہ بات یہ تھی کہ میں نے کہا کہ اس دفعہ آم ابھی تک نہیں آئے اس پر ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایک آدمی سندھ سے آ پہنچا اور اُس کے پاس ہمارے لئے آم تھے۔میری بیوی نے مجھ سے ذکر کیا کہ بچہ کہ رہا ہے کہ لو ابھی ابھی ابا جان نے کہا تھا کہ اس دفعہ آم نہیں آئے اور وہ آ بھی گئے ہیں۔یہ بات اگر ایک دفعہ ہوتی تو اس کو اتفاقی کہہ سکتے تھے لیکن اس قسم کی ہزاروں باتیں اتنے تواتر کے ساتھ ہوتی ہیں اور ان کو اتفاقی نہیں کہا جا سکتا۔پس یہ آیت حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام، یا کسی اور نبی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے سارے بندوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے سارے بندوں کے