انوارالعلوم (جلد 19) — Page 106
انوار العلوم جلد ۱۹ ١٠٦ سکھ قوم کے نام دردمندانہ اپیل ہاتھ میں نہیں اس لئے میں صرف نیک مشورہ ہی دے سکتا ہوں ہاں مجھے امید ہے کہ اگر سکھ صاحبان مسٹر جناح سے بات کریں تو یقیناً انہیں سکھوں کا خیر خواہ پائیں گے مگر انہیں بات کرتے وقت یہ ضرور مد نظر رکھ لینا چاہئے کہ ہند و صاحباں انہیں کیا کچھ دینے کو تیار ہیں کیونکہ خود کچھ نہ دینا اور دوسروں سے لینے کے مشورے دینا کوئی بڑی بات نہیں۔اس میں مشورہ دینے والے کا کچھ حرج نہیں ہوتا پس اچھی طرح اونچ نیچ کو دیکھ کر وہ اگر مسلم لیگ کے لیڈروں سے ملیں تو مجھے امید ہے کہ مسلم لیگ کے لیڈر انہیں نا امید نہیں کریں گے۔اگر مجھ سے بھی اس بارہ میں کوئی خدمت ہو سکے تو مجھے اس سے بے انتہا خوشی ہوگی۔آخر میں میں سکھ صاحبان کو مشورہ دیتا ہوں کہ سب کاموں کی کنجی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ گورونانک دیو جی اور دوسرے گوروؤں کے طریق کو دیکھیں وہ ہر مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیا کرتے تھے اس وقت ان کو بھی اپنی عقل پر سارا انحصار رکھنے کی بجائے خدا تعالیٰ سے دعا ئیں کرنی چاہئیں تا اللہ تعالیٰ انہیں وہ راستہ دکھا دے جس میں ان کی قوم کی بھی بھلائی ہو اور دوسری قوموں کی بھی بھلائی ہو۔یہ دن گذر جائیں گے، یہ باتیں بھول جائیں گی لیکن محبت اور پریم کے کئے ہوئے کام کبھی نہیں بھولیں گے اگر بٹوارہ بھی ہونا ہے تو وہ بھی اسی طرح ہونا چاہئے کہ ایک قوم کا گاؤں دوسری قوم کے گاؤں میں اس طرح نہ گھسا ہوا ہو کہ جس طرح دو کنگھیوں کے دندانے ملا دیئے جاتے ہیں اگر ایسا ہوا تو سرحد میں چھاؤنیاں بن جائیں گی اور سینکڑوں میل کے بسنے والے لوگ قیدیوں کی طرح ہو جائیں گے اور علاقے اُجڑ جائیں گے۔یہ میری نصیحت سکھوں ہی کو نہیں مسلمانوں کو بھی ہے۔میرے نزدیک تحصیلوں کو تقسیم کا یونٹ تسلیم کر لینے سے اس فتنہ کا ازالہ ہو سکتا ہے اگر اس سے چھوٹا یونٹ بنایا گیا تو جتنا جتنا چھوٹا وہ ہوتا جائے گا اُتنا اتنا نقصان زیادہ ہوگا۔ایک عرب شاعر اپنی معشوقہ کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔ع فَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعُتِ صَرُمًا فَاجْمِلِي یعنی اے میری محبوبہ ! اگر تو نے جُدا ہونے کا فیصلہ ہی کر لیا ہے تو کسی پسندیدہ طریق سے جُدا ہو۔میں بھی ہندو، مسلمان ، سکھ سے کہتا ہوں کہ اگر جُدا ہونا ہی ہے تو اس طرح جُدا ہو کہ