انوارالعلوم (جلد 19) — Page 103
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۰۳ سکھ قوم کے نام دردمندانہ اپیل ہاتھ سے ہندوستان کی طرف آتا ہے اور اس تجارت کی قیمت کروڑوں تک پہنچتی ہے اگر یہ تاجر موجودہ افراتفری میں اپنی تجارتوں کو بند کریں گے تو نئی جگہ کا پیدا کرنا ان کے لئے آسان نہ ہوگا اور اگر وہ اپنی جگہ پر رہیں گے تو اسلامی حصہ ملک میں ان کی آبادی کے کم ہو جانے کی وجہ سے وہ اس سیاسی اثر سے محروم ہو جائیں گے جو اب ان کی تائید میں ہے اور پھر اگر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے پہلے علاقہ میں ہی رہیں تو آہستہ آہستہ ان کی ہمدردی اپنے مشرقی بھائیوں سے کم ہو جائے گی اور سکھ انجمنیں ان کی امداد سے محروم رہ جائیں گی۔ یہ امر بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہے کہ مشرقی صوبہ کا دارلحکومت لا زما د ہلی کے پاس بنایا جائے گا اور اس طرح امرتسر اپنی موجودہ حیثیت کو کھو بیٹھے گا اس وقت تو لاہور کے قرب کی وجہ سے جہاں کافی سکھ آبادی ہے امرتسر تجارتی طور پر ترقی کر رہا ہے لیکن اگر دار الحکومت مثلاً انبالہ چلا گیا تو انبالہ بوجہ امرتسر سے دور ہونے کے قدرتی طور پر اپنی تجارتی ضرورتوں کے لئے امرتسر کی جگہ دہلی کی طرف دیکھے گا اور لاہور حکومت کے اختلاف کی وجہ سے امرتسر سے پہلے ہی جدا ہو چکا ہوگا ، پھر امرتسر کی تجارت کا ۳ را حصہ اس مال کی وجہ سے ہے جو افغانستان ، بخارا اور کشمیر سے آتا ہے یہ مال بھی اپنے لئے نئے راستے تلاش کرے گا اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ امرتسر کی تجارتی حیثیت بہت گر جائے گی اور یہ شاندار شہر جلد ہی ایک تیسرے درجہ کا شہر بن جائے گا۔ اگر مغربی پنجاب نے مشرقی پنجاب کی ڈگریوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو وہ اٹھارہ لاکھ سکھ جو مغربی پنجاب میں بستے ہیں ایک بڑا کالج مغربی پنجاب میں بنانے پر مجبور ہوں گے اور چونکہ بڑے زمیندار اور بڑے تاجر جر سکھ سلھ مغربی پنجاب میں ہیں ان کے لئے ایک بہت بڑا بڑا کالج بنانا مشکل نہ ہوگا اس طرح خالصہ کالج امرتسر بھی اپنی شان کھو بیٹھے گا اور سکھوں کے اندر دو متوازی سکول اقتصادی اور سیاسی اور تمدنی فلسفوں کے پیدا ہو جائیں گے ۔ بے شک ساری قوموں کو ہی اس بٹوارہ سے نقصان ہو گا لیکن چونکہ ہندوؤں کی اکثریت ایک جگہ اور مسلمانوں کی اکثریت ایک جگہ جمع ہو جائے گی انہیں یہ نقصان نہ پہنچے گا یہ نقصان صرف سکھوں کو پہنچے گا جو قریباً برابر تعداد میں دونوں علاقوں میں بٹ جائیں گے اور دونوں میں سے کوئی حصہ اپنی بڑائی کو دوسرے حصہ پر قربان کرنے کے لئے تیار نہ ہوگا ۔ کہا جاتا کہ آبادی کے تبادلہ سے یہ مشکل حل کی جا سکے **